Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-61)

Urdu · 3 min

سوال: مذہب اور انسان کے بارے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ مذہب صرف ایک پہچان کی چیز ہے، یعنی یہ کہ ہم فلاں مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ کون کیا کر رہا ہے، تو اس سے کوئی مطلب نہیں رکھنا چاہیے۔ البتہ ہم دوسروں کی جتنی مدد کر سکیں، وہ ہم کو کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک انسان کا اصل مقصد خدمتِ انسانیت ہے، اور سب سے بڑا مذہب انسان کی خدمت کرنا ہے۔

مذہب اور انسان کے بارے میں میرے یہ نظریات ہیں۔ براہِ کرم آپ اس مسئلے پر روشنی ڈالیں اور بتائیں کہ کیا میرے یہ نظریات درست ہیں۔ محمد قاسم خاں، نئی دہلی۔ جواب: سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ دنیا میں کسی مذہب کو درست مذہب قرار دینے کے لیے صحیح معیار، یعنی کرائٹیرین، کیا ہے؟

وہ صرف ایک ہے، اور وہ خالقِ کائنات کا تخلیقی نقشہ ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ ہمیں قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اس تخلیقی نقشے کے مطابق اس دنیا کے لیے ایک ہی مذہب درست ہے، اور وہ مذہب مذہبِ توحید ہے۔ یعنی ایک اللہ کو اپنے خوف اور محبت کے جذبات کا مرکز بنا کر اس کے مطابق زندگی گزارنا۔

قرآن کے مطابق شیطان آدمی کا دشمن ہے۔ وہ مسلسل اس کوشش میں رہتا ہے کہ آدمی کو مذہبِ توحید سے ہٹا دے۔ اس مقصد کے لیے اس نے مختلف مذہب بنائے، مثلاً مذہبِ شرک، مذہبِ الحاد، مذہبِ اشتراکیت۔ اس سلسلے میں شیطان نے جو سب سے زیادہ خطرناک مذہب ایجاد کیا، وہ یہی مذہبِ انسانیت ہے۔

اس کو موجودہ زمانے میں ہیومنزم کہا جاتا ہے، مگر سادہ طور پر یہ صرف ایک انسانی نظریہ نہیں۔ وہ خدا کو تختِ معبودیت سے ہٹا کر وہاں انسان کو اس کی جگہ بٹھاتا ہے۔ It is like transferring of seat from God to man. حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود، اس کا دل و دماغ، اس کے جذبات و کیفیات، سب خالق کی امانت ہیں۔

انسان کا مرکزِ توجہ پوری طرح صرف ایک خدا کو ہونا چاہیے۔ دوسری ہر چیز، حتیٰ کہ انسانی خدمت بھی، خدا کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ اس سے آزاد۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 61۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.