Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-60)

Urdu · 4 min

سوال: آپ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے، آج ہمارے لیے یہ موقع ہے کہ ہم آزادی کے ماحول میں اسلامی دعوت کا کام کر سکیں، مگر واقعات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ کاسووو، بوسنیا، سیریا، مصر، عراق، برما، کشمیر، امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟ ہر جگہ مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں، ان کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں کی جا رہی ہیں، پھر مذہبی آزادی کہاں ہے؟ یہ سوال ہم کو بذریعہ انٹرنیٹ مائیکل شمیٹ کی طرف سے موصول ہوا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ جن ملکوں میں مسلمانوں کو مذہبی زیادتی کا سامنا پیش آ رہا ہے، وہاں یہ مسئلہ کب سے پیدا ہوا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی طرح ان ملکوں میں بھی مسلمانوں کو مکمل امن اور آزادی حاصل تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان کچھ نا عاقبت اندیش لیڈر اٹھے، جنہوں نے جذباتی نعروں کے ذریعے مسلمانوں کو بھڑکایا اور انہیں مقامی حکمرانوں سے ٹکرا دیا۔ جب ایسا ہوا تو اس کے بعد وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو آپ مذہبی زیادتی کے مسائل کہتے ہیں۔

مذکورہ ملکوں میں سے ہر ملک کا معاملہ یہی ہے۔ ان مقامات پر مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ ملک اور مال کے نام پر سیاسی جنگ نہ چھیڑتے۔ وہ ملی ہوئی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے دعوتی اور تعمیری کام کرتے تو یقینی طور پر انہیں زیادتیوں کا شکار نہ ہونا پڑتا جن کا ذکر آپ اخباروں میں دیکھتے ہیں۔ مذکورہ سوال میں امریکہ کی مثال بھی دی گئی ہے۔

مسائل کے نزدیک وہاں کے مسلمان میڈیا کے شدید مخالفانہ پروپیگنڈوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ Muslims are under a heavy media propaganda campaign. یہ بات درست نہیں۔ جس چیز کو اسلام کے خلاف میڈیا کا پروپیگنڈا کہا جاتا ہے، اس کے ذمہ دار تمام تر خود مسلمان ہیں۔

میڈیا کیا ہے؟ وہ واقعات کے رپورٹ کی انڈسٹری ہے۔ مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر متشددانہ تحریکیں چلا رہے ہیں۔ میڈیا اسی کی رپورٹ کرتا ہے۔

چونکہ یہ مسلمان اپنی متشددانہ تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلاتے ہیں، اس لیے میڈیا بھی ان کو اسلام کے نام سے منسوب کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جو تشدد اسلام کے نام پر کریں گے، اس کی رپورٹ بھی اسلام ہی کے نام کی کی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جو تشدد اسلام کے نام پر کریں گے، اس کی رپورٹ بھی اسلام ہی کے نام کی کی جائے گی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ یا تو وہ اپنا یہ بے فائدہ تشدد ختم کر کے پرامن ذرائع سے کام کریں، یا وہ اپنی متشددانہ تحریکوں کو اسلام اور اسلامی جہاد کے نام پر نہ چلائیں۔

اس کے بعد انہیں میڈیا سے یہ شکایت بھی نہ ہوگی کہ میڈیا اسلام کو بدنام کر رہا ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.