سوال نمبر 1: قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، "کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو"۔ سورہ بنی اسرائیل۔ اس آیت کو اگر اس کے سادہ معنوں میں لیا جائے تو اب تک جتنی آیاتِ الٰہی کائنات میں ڈسکور ہوئی ہیں، جو کہ پہلے لامعلوم تھیں، وہ ڈسکور نہ ہوتیں۔ یا پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے؟
سوال نمبر 2: قرآن میں ہے، "تم میں کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر وارد نہ ہو"۔ سورہ مریم، آیت 71۔ کیا اس آیت سے کوئی مستثنیٰ نہیں، حتیٰ کہ پیغمبر اور صحابہ بھی؟ عبدالشکور انجینئر، چمن، بلوچستان۔
جواب: ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا علم نہیں۔ سورہ بنی اسرائیل، آیت 36۔ اس آیت کا تعلق کائنات سے نہیں ہے، بلکہ انسان سے ہے۔ جہاں تک کائناتی حقیقتوں کا معاملہ ہے، ان کا حکم دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے، نہ کہ اس آیت سے۔
قرآن میں کثرت سے اس پر ابھارا گیا ہے کہ کائنات کی نشانیوں پر غور کرو، حتیٰ کہ کائنات میں غور و فکر کو ایمان کی ایک صفت قرار دیا گیا ہے، اور وہ اسلام میں بے حد مطلوب ہے۔ اس سے مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں تک سورہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا تعلق ہے، وہ ایک اخلاقی ہدایت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے معاملے میں حسنِ ظن سے کام لو، بدگمانی کا شکار ہو کر غیر ضروری ٹوہ میں نہ لگو۔
یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسری جگہ "تجسس" کہا گیا ہے، اور اس کو سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ سورہ الحجرات، آیت 12۔ سورہ مریم، آیت 71 میں آخرت کے جس تجربے کا ذکر ہے، اس کی تشریح تذکیر القرآن میں دیکھی جا سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں "ورود" کا مطلب دخول نہیں، بلکہ اس کا مطلب مرور ہے، یعنی تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے، نہ کہ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے۔
چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کو "جسر" یعنی پل جیسا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک طوفانی دریا کے اوپر پل ہو، اور آپ اس پل سے گزریں، تو آپ دریا کی ہولناک موجوں کو دیکھیں گے، لیکن آپ اس کے اوپر سے صحیح و سلامت گزر جائیں گے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 59۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.