سوال: آپ نے اپنی کتاب "اسلام دورِ جدید کا خالق" اور دوسرے کئی مضامین میں یہ لکھا ہے کہ جدید دور کی ترقیوں کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ان ترقیوں کے لیے مسلمانوں کا نام نہیں لیا جاتا۔ اس کی وجہ کیا ہے، کیا ایسا تعصب کی بنا پر ہے؟ عمران احمد اصلاحی، دہلی۔ جواب: یہ کوئی تعصب کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک سادہ فطری معاملہ ہے۔
ہر گھر میں اور ہر سماج میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی کو جو عزت ملتی ہے، وہ اس کے کارناموں کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ ماضی کے کارناموں کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے جدید ترقیاتی دور کا آغاز کیا، لیکن اگلے مرحلے میں وہ زوال کا شکار ہو گئے۔ اگلے مرحلے کے تمام کام مغربی قوموں نے انجام دیے، اس لیے ہر طرف انہی کا نام لیا جانے لگا۔ مثلاً ہزاروں سال سے انسان دریاؤں کو معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش میں مبتلا تھا۔
مسلمانوں نے یہ کام کیا کہ دریاؤں کو معبودیت کے درجے سے ہٹایا، مگر پانی کو اسٹیم پاور میں بدلنے کا کام اہل مغرب نے انجام دیا، نہ کہ مسلمانوں نے۔ اسی طرح دنیا آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ مسلمانوں نے انسان کو آفتاب پرستی کی ذلت سے نکالا، مگر آفتاب کو سولر انرجی میں تبدیل کرنے کا کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا، وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا نام ماضی کی تاریخ میں تو ضرور لکھا ہوا ہے، مگر حال کی دنیا میں ان کا کوئی چرچا نہیں۔
یہی معاملہ تمام ترقیات کا ہے۔ جن چیزوں کو تمدنی ترقی کہا جاتا ہے، وہ سب فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ قدیم زمانے کا انسان فطرت کو معبود کا درجہ دیے ہوئے تھا، اس بنا پر اس کے اندر فطرت کی تسخیر کا ذہن پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اہل اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کو معبود کے بجائے مخلوق کا درجہ عطا کیا۔
اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ تاریخ میں پہلی بار فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کی تسخیر کا عمل شروع ہو گیا۔ اسی کا براہ راست نتیجہ وہ تمام ترقیات ہیں جو آج دنیا میں نظر آتی ہیں۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.