Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-38)

Urdu · 4 min

سوال: آج کل ہر جگہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ مسلمان ہی نقصان میں رہتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ہم کو مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان ہونے کی بنا پر ہمارے خلاف یہ زیادتیاں کی جا رہی ہیں؟

نسیم علی خان، بمبئی۔ جواب: قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات بالکل غلط ثابت ہوتی ہے۔ دورِ اول کے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ الشورى 30 یعنی جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس آیت کے مطابق یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب کسی مسئلے سے دوچار ہو تو وہ مفروضہ دشمنوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کی شکایت کرنے لگے۔

یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے کہ کوئی شخص مستقل طور پر کسی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آدمی کی اپنی کمزوری دوسروں کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اس کو اپنی ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ بنائے۔ جہاں تک اہلِ ایمان کا تعلق ہے تو قرآن میں بار بار یہ ضمانت دی گئی ہے کہ اہلِ ایمان اگر صحیح معنوں میں دینی روش پر قائم ہوں تو وہ کبھی بھی اغیار کے ظلم یا سازش کا نشانہ نہیں بنیں گے۔ اس سلسلے میں قرآن سے چند حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔

مثلاً قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ سورہ آل عمران، آیت 139۔ اسی طرح فرمایا: اللہ ہرگز کافروں کو مومنین کے اوپر کوئی راہ نہیں دے گا۔ سورہ النساء، آیت 141۔

مزید فرمایا کہ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ سورہ آل عمران، آیت 120۔ قرآن کے ان ارشادات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جب بھی اغیار کے ظلم و زیادتی کے شکار ہوں تو ہمیشہ اس کا سبب خود مسلمانوں کے اندر ہوگا، نہ کہ مسلمانوں کے باہر۔ اس اصول کی عملی مثال یہ ہے کہ دورِ اول کے مسلمانوں کو جب احد کی جنگ میں جان و مال کا سخت نقصان پیش آیا تو قرآن میں اس کا سبب خود مسلمانوں کے باہمی نزاع کو قرار دیا گیا۔

آل عمران، 152۔ اسی طرح حنین کی جنگ میں ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا سبب بھی قرآن نے خود مسلمانوں کے عجب کو قرار دیا گیا۔ سورہ توبہ، آیت 25۔ قرآن کی یہ ارشادات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ایسے معاملات میں ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔

وہ یہ ہے کہ ہم دشمنوں کی سازش کا انکشاف کرنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف منفی کارروائیوں میں لگ جائیں۔ اس کے برعکس ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم خود اپنا احتساب کریں۔ ہم اپنی داخلی کمزوریوں کو تلاش کر کے ان کی اصلاح کریں۔ یہی اس معاملے میں قرآنی ذہن ہے اور اس معاملے کا قرآنی حل۔

کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.