Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-36)

Urdu · 4 min

سوال: کچھ مسلمانوں کو آپ سے جو شکایت ہے، وہ اس وقت شروع ہوئی جب آپ آر ایس ایس اور کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جانے لگے۔ مسلمان عام طور پر ان کو مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب آپ ان کے جلسوں میں جانے لگے تو کچھ لوگوں کو آپ کے بارے میں شبہ ہوا کہ آپ خدانخواستہ ان کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ یہ سوال ان مسلمانوں کے ذہن میں بھی ہے جو اسلام کے بارے میں آپ کی تحریروں کو بے حد پسند کرتے ہیں۔

براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ عمران احمد اصلاحی، دہلی۔ جواب: اس معاملے میں لوگوں کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ تو میں ایک بھولی ہوئی سنت کو زندہ کر رہا ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں اور مشرکوں کی مجلسوں میں اور ان کے میلوں اور بازاروں میں جاتے تھے تاکہ انہیں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ لوگ خود اپنے اجتماعات ہی میں بڑی تعداد میں مل سکتے ہیں، کسی اور جگہ ہم ان کو نہیں پا سکتے۔ اس لیے ان کو عمومی طور پر اسلام سے متعارف کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ خود ان کے اجتماعات میں شرکت کی جائے۔ آر ایس ایس کے لوگ میرے اس مقصد کو بخوبی جانتے ہیں۔

چنانچہ آر ایس ایس کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر، دہلی، نے میرے بارے میں 2 قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا "ایک مبلغ مولانا، اے مشنری مولانا"۔ آر ایس ایس کے ایک لیڈر، ڈاکٹر چندر شرما، نے ہندی اخبار راجستھان پتریکا میں میرے بارے میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ دوسرے مسلمانوں کا طریقہ عداوت کا ہے اور مولانا کا طریقہ دعوت کا۔ دہلی کے فقیہ آڈیٹوریم میں ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ دہلی کے آر ایس ایس حلقے کی طرف سے کیا گیا تھا۔

اس میں صرف 2 مقرر تھے، ایک میں اور دوسرے جناب اٹل بِہاری واجپائی۔ میں نے اپنی تقریر کا موضوع "وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين" بنایا اور تقریباً آدھ گھنٹے کی پوری تقریر اسلام کے تعارف پر کی۔ اس کے بعد جناب اٹل بِہاری واجپائی اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی اور شروع ہی میں مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "مولانا صاحب، یہ وِچار منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں ہے۔

" اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ میں کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جاتا ہوں تو وہاں میں اپنی تقریر میں کیا بات کہتا ہوں۔ جو لوگ پابندی کے ساتھ ماہنامہ اور رسالہ پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میری زندگی کا واحد مشن دعوت ہے: اسلام کے پیغامِ رحمت کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ اسی کو میں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر، ہر جگہ میں مسلسل یہی کام کر رہا ہوں۔

آر ایس ایس کے جلسوں میں جانا بھی اسی سلسلۂ تعارف کی ایک کڑی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں چونکہ غیر مسلموں میں جا کر انہیں اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے، اس لیے کچھ لوگ اس کو اجنبیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر مجھے یہ یقین ہے کہ میرا یہ عمل ایک عبادت ہے۔

میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ کام ان شاء اللہ اس مخصوص دینی عمل میں شمار کیا جائے گا جس کو حدیث میں "مردہ سنت کو زندہ کرنے" کا نام دیا گیا ہے۔ رواجی دین پر عمل کرنے والا فوراً لوگوں کی نظر میں مقبول بن جاتا ہے، لیکن متروک دین پر عمل کرنے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دین کے متروک جز پر عمل ہمیشہ نہایت مشکل کام ہوتا ہے، چنانچہ اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ "إن عظم الجزاء مع عظم البلاء"۔

الترمذی، کتاب الزہد. کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.