سوال: میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اکثر آپ کے خلاف بولتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ شوشے نکال کر آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ لوگ دلیل کی زبان میں آپ کی کاٹ کریں یا قرآن و حدیث کے حوالوں سے آپ کی بات رد کریں۔ آخر اس روش کے پیچھے نفسیات کیا ہیں؟
یہ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں، جبکہ مجھے یقین ہے کہ اس قسم کی باتوں سے نہ آپ کی تردید ہوتی ہے اور نہ کوئی ان سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر انوار الحق، اعظم گڑھ۔ جواب: اس کا جواب بالکل سادہ ہے: آپ کے پاس اپنے حریف کے لیے اگر بم ہو تو آپ اس کے اوپر بم ماریں گے۔ آپ اس کی طرف کنکری نہیں پھینکیں گے، البتہ اگر آپ محسوس کریں کہ "میرے پاس اپنے حریف کے خلاف کوئی طاقتور ہتھیار نہیں" تو دل کا بخار نکالنے کے لیے آپ اس کو گالیاں دیں گے۔
کنکری پھینک کر یہ تسکین حاصل کریں گے کہ آپ نے اس کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ جو لوگ میرے خلاف عیب زنی اور الزام تراشی کی مہم چلا رہے ہیں، وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دلائل کے اعتبار سے وہ بالکل بے بس ہیں۔ یا رسالے کا ہر قاری جانتا ہے کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں ہمیشہ قرآن و حدیث کے حوالوں کی روشنی میں لکھتا ہوں۔ ایسی حالت میں جو لوگ میرے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کریں، انہوں نے صرف مجھ کو نشانہ نہیں بنایا؛ انہوں نے قرآنی دعوت کو رد کیا، انہوں نے اپنی زبان حال سے یہ کہا کہ "ہم کو قرآن و حدیث سے کوئی مطلب نہیں، ہم کو صرف اپنے تعصبات سے مطلب ہے"۔
بظاہر اگرچہ وہ مجھ کو برا بھلا کہتے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں سرکشی کر رہے ہیں۔ وہ نعوذ باللہ خدا و رسول کی ناقدری کرنے کے مجرم بن رہے ہیں۔ ان حضرات کی یہ روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے اس ارشاد کی مصداق ہے: "یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں"۔ سورہ الانعام، آیت 33۔
کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.