Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-34)

Urdu · 3 min

سوال: اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اخلاص میں برکت ہے۔ جو کام اخلاص کے بغیر کیا جائے اس میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں، شاہ فیصل دہلی۔

جواب: یہ کوئی پراسرار بات نہیں، یہ ایک سادہ حقیقت ہے۔ اس کو مذہب کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہیں گے کہ اخلاص میں برکت ہوتی ہے، اور فطرت کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہا جائے گا کہ تاثیر صرف اس کام میں ہے جس کو انسانی درد کے ساتھ کیا گیا ہو۔ پروفیشنل طور پر کیے گئے کام میں کوئی تاثیر نہیں ہو سکتی۔ برکت یا تاثیر کا تعلق صرف بات سے نہیں ہے، بلکہ اس سے ہے کہ بات کو کس طرح کہا گیا ہے۔

ایک پیشہ ور گیت کار مترنم لہجے میں اخلاق اور محبت کا گیت گائے تو سننے والے اس سے وقتی لطف لے سکتے ہیں، مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہو سکتا کہ سننے والے اپنی عملی زندگیوں میں غیر اخلاقی روش کو چھوڑ دیں اور اخلاقی قدروں کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیں۔ کیونکہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ یہ آدمی ذاتی مفاد کے لیے ایسا کر رہا ہے، نہ کہ حقیقتاً اصلاحِ انسانیت کے لیے۔ اس کے برعکس، بامقصد اور درد مند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ صبح و شام اس لیے تڑپ رہا ہوتا ہے کہ لوگ بے اخلاقی کا طریقہ چھوڑ دیں اور بااخلاق زندگی اختیار کریں۔ وہ اپنی تنہائیوں میں لوگوں کی اصلاح کے لیے دعائیں کرتا ہے۔

وہ رات دن سوچتا ہے کہ بات کو کس طرح زیادہ بہتر انداز میں کہے جو لوگوں کے لیے آنسوؤں سے بنی ہوئی سیاہی کے لیے مؤثر ہو سکے۔ اخلاق اور روحانیت اس کے لیے صرف کہنے کی بات نہیں ہوتی، بلکہ وہ عملاً کرنے کی بات ہوتی ہے۔ وہ اس کو جنت اور جہنم کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ اس لیے دوسروں کو سنانے سے پہلے وہ خود اس کا عملی پیکر بن جاتا ہے۔

وہ کہنے سے پہلے کرنے والا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کا کہنا صرف کہنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنے دل کے درد کو انڈیلنا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اور بولنا صرف لکھنا اور بولنا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اس کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے قلم کی سیاہی بازار کی سیاہی نہیں ہوتی، بلکہ وہ وہابی ہوتی ہے۔

اس کی آواز ہوا کی لہروں پر سفر نہیں کرتی، بلکہ وہ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ایک روح سے نکل کر دوسری روح تک پہنچتی ہے۔ اسی کا نام اخلاص ہے، اور جو بات اس اخلاص کے ساتھ نکلے وہ از دل خیضت و بر دل ریزت کی مصداق ہوتی ہے، الا یہ کہ سننے والا ایک ایسا انسان ہو جس کے سینے میں بدقسمتی سے دل ہی نہ ہو۔ ایسا آدمی پتھر کا ایک مجسمہ ہوگا، نہ کہ حقیقتاً کوئی زندہ انسان۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.