Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-33)

Urdu · 2 min

سوال: آپ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے، مگر قرآن میں اس کا بالکل الٹا ہے۔ قرآن میں مسلمانوں کو قتال کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ— یہاں تک کہا گیا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو مارو۔ قرآن اسلام کی مقدس کتاب ہے، پھر اسلام امن کا مذہب کیسے ہو سکتا ہے؟ بینکنٹ لال شرما پریم، نئی دہلی۔

جواب: قرآن میں جہاں "قاتل المشرکین" کا حکم آیا ہے، وہ عام معنی میں نہیں ہے، بلکہ خاص معنی میں ہے۔ اس سے مراد ساری دنیا اور ہر زمانے کے مشرکین نہیں، بلکہ پیغمبر اسلام کے معاصر مشرکین ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو پیغمبر اسلام کے خلاف جارحیت کر رہے تھے، جنہوں نے آپ کے خلاف یکطرفہ طور پر جنگ چھیڑ دی تھی، ان سے دفاع کے طور پر لڑنے کا حکم دیا گیا۔ اسلام میں صرف ایک ہی جائز جنگ ہے، اور وہ دفاع کی جنگ ہے۔

اس کے سوا کوئی اور جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فکر اسلامی۔ قرآن میں قتال کے حکم کو آپ گیتا کے تقابلی مقابلے سے سمجھ سکتے ہیں۔ گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔

اس میں کرشن جی ارجن کو لڑنے پر ابھارتے ہیں، وہ ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یُدھ کے لیے آگے بڑھو۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گیتا اپنے ماننے والوں سے کہتی ہے کہ تم لوگ ہمیشہ اور ہر جگہ دوسری قوموں سے لڑتے رہو؟ تم ہر ایک کے خلاف مار کاٹ کرو؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

گیتا میں کرشن جی کی جنگی تلقین وقتی معنی میں ہے، نہ کہ ابدی معنی میں۔ یعنی تمہارے سامنے جو اپنائے لوگ ہیں، ان سے لڑو۔ انہی پر یہ جنگ ہوئی اور انہی پر ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح قرآن میں جس جنگ کا حکم ہے، وہ پیغمبر کے زمانے کے ایک جارح گروہ کے خلاف تھی۔

یہ جنگ انہی پر شروع ہوئی اور انہی پر ختم ہو گئی۔ بعد کے زمانے میں اس کا حکم اگر باقی ہے تو صرف جارحیت کرنے والوں کے مقابلے میں دفاع کے لیے ہے، نہ کہ عمومی طور پر لوگوں سے لڑنے مرنے کے لیے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.