سوال: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ» سورہ الروم آیت 47۔ اس آیت کا ترجمہ حضرت شیخ الہند نے اس طرح کیا ہے کہ: «اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی»۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل اوقات میں خدا ضرور اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ اس کو اپنے اوپر اہلِ ایمان کا حق سمجھتا ہے۔ مگر ہم سیکھتے ہیں پچھلی کئی نسلوں سے مسلمان تقریباً ساری دنیا میں اغیار کے زیادتیوں کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں، مگر ان پر خدا کی وہ مدد نہیں آتی جو زیادتیوں کا یہ سلسلہ ختم کر دے اور مسلمانوں کو دوبارہ سر بلند کر دے اور مسلمانوں کو دوبارہ سر بلند کر دے اور اس طرح ہمارے اوپر خدا کا وعدہ پورا ہو۔
عبدالرحیم امدادی، مرشد آباد۔ جواب: اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہ برحق ہے، مگر اس آیت میں "مومنین" کے لفظ سے مراد عمومی مفہوم میں مسلم ملت یا مسلم قوم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ اہلِ ایمان ہیں جو خدا کے اس مطلوب مشن کو لے کر اٹھیں جس کو رسول اللہ کے زمانے کے اہلِ ایمان لے کر اٹھے تھے اور اس میں اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی۔ جب اہلِ ایمان کا کوئی گروہ اس قسم کا ربانی مشن لے کر اٹھے اور کچھ لوگ اس کو چیلنج کریں تو ان کا یہ چیلنج خود خدا کے خلاف چیلنج کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی مخالفانہ کارروائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے خلاف ہوتی ہے، نہ کہ محض اہلِ ایمان کے خلاف۔
یہی وجہ ہے کہ خدا ایسے اہلِ ایمان کی مدد پر آ جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کی ان مقابلہ آرائیوں میں خواہ اسلام کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، ہر حال میں وہ مسلمانوں کی اپنی قومی یا سیاسی لڑائیاں ہیں۔ خدا کا مذکورہ وعدہ موجود قسم کی قومی لڑائیوں پر نہیں ہے، بلکہ وہ اصحاب رسول جیسی خالص دینی جدوجہد کے اوپر ہے۔
یہ معاملہ قرآن کی آیتوں میں بالکل واضح ہے۔ مثال کے طور پر فرمایا کہ «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ» سورہ محمد آیت 8۔ یعنی اگر تم اللہ والا کام کرنے کے لیے اٹھو گے تو اللہ تمہاری مدد کر کے تم کو کامیاب بنائے گا۔ اس سے واضح ہے کہ مدد کا وعدہ اللہ والے کام پر ہے، نہ کہ مسلمانوں کے اپنے قومی کاموں پر۔
کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.