سوال: آپ کہتے ہیں کہ اسلام کی پرامن تبلیغ ہونی چاہیے، مگر نبیوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر نبی کو وقت کے اقتدار سے سنگرش کرنا پڑا، ہمیشہ حق کو باطل سے مقابلہ آرائی کرنا پڑا، اس لیے پرامن تبلیغ کس طرح ہو سکتی ہے؟ شکیل احمد، ورورا، مہاراسٹرا۔ جواب: ہر نبی نے اقتدار کے خلاف جنگ کی، یہ خود ساختہ مفروضہ ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ جنگ کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ دفاع سے ہے؛ ناگزیر حالات میں حسبِ استطاعت دفاع کیا جاتا ہے۔
کسی نبی کی تاریخ میں اگر جنگ کا واقعہ پیش آیا تو وہ جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے، اپنے پیغام کی اشاعت کے لیے۔ اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر کا اپنے ہم عصر لوگوں سے جو ٹکراؤ پیش آیا، وہ ایک زمانی چیز تھی؛ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا، اس لیے ہر مذہب کے مقابلے میں تشدد کا تجربہ پیش آتا ہے۔ مگر اب آزادیِ فکر کا زمانہ ہے؛ اب اظہارِ رائے کی آزادی کو ہر انسان کا لازمی حق سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اب اگر صحیح اسلوب میں دعوت کیا جائے تو عملاً تشددانہ ردِعمل پیش آنے کا کوئی امکان نہیں۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.