Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-30)

Urdu · 3 min

سوال: آپ دعوتی نقطۂ نظر سے ایک کام کر رہے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم دشمن عناصر کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں، مثلاً جابجا مسلمانوں کی خامیوں کا ذکر کرنا وغیرہ۔ اس سے انہیں موقع ملتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مدعون کر سکیں۔ آپ کو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ محمد خالد ندوی، دہلی۔

جواب: الرسالے کا مقصد خاص طور پر مسلمانوں کی اصلاح ہے، اسی لیے میں الرسالے کو ایک نصیحت نامہ کہتا ہوں۔ نصیحت کا یا اصلاح کا طریقہ کیا ہے، اس کو جاننے کا واحد ذریعہ قرآن ہے۔ نصیحت یا اصلاح کے بارے میں قرآن کا جو اسلوب ہے، وہی اسلوب میں نے اختیار کیا ہے۔ اور قرآن کا اسلوب اس معاملے میں یہی ہے کہ جہاں کوئی داخلی کوتاہی نظر آئے، اس کو کھلے طور پر ظاہر کیا جائے۔

اس سلسلے میں مذکورہ قسم کے اندیشے کا لحاظ کرنا قرآنی اسلوب کے سراسر خلاف ہے، اور اسی لیے بے فائدہ بھی۔ مثال کے طور پر غزوہ بدر کے بعد دشمنوں کے 70 آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ چند صحابہ، یعنی حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن معاذ، کی رائے یہ تھی کہ ان کے جنگی جرم کی بنا پر انہیں قتل کر دیا جائے۔ لیکن اکثر صحابہ، بشمول حضرت ابوبکر اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ ہوئی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔

اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب اترا اور فرمایا کہ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ چاہتا ہے آخرت۔ سورہ الانفال، آیت 67۔ یہ آیت بظاہر یہ بتاتی ہے کہ صحابہ کی اکثریت خدانخواستہ حب مال میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اگر نصیحت کا مذکورہ معیار درست نہ ہو— اگر نصیحت کا مذکورہ معیار درست ہو، تو قرآن کو مسلمانوں کی اس کمزوری کا اس طرح اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس طرح اغیار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا تھا کہ ہم لوگوں کی ساری جدوجہد مال کے لیے ہے۔

اس اندیشے کے باوجود قرآن میں مذکورہ تنبیہ نازل کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق نصیحت کے معاملے میں مذکورہ قسم کا اندیشہ سراسر غیر معتبر ہے۔ اس معاملے میں حقیقتِ حال کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کیا جائے گا۔ اس معاملے میں اخفاء کا طریقہ اختیار کرنا اگر مطلوب ہوتا تو قرآن میں مذکورہ آیت ہرگز نازل نہ ہوتی۔

اس طرح کی کئی اور مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 30۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.