Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-28)

Urdu · 3 min

سوال: "ماہنامہ الرسالہ" کا میں ایک ریگولر ریڈر ہوں، اور اس کو پسند کرتا ہوں، مگر کبھی کبھی آپ نزاعی معاملات میں پڑ جاتے ہیں جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً بابری مسجد وندے ماترم جیسے ایشو میں پڑ کر آپ نے اپنے کو متنازعہ شخصیت بنا لیا، یہ آپ کے مثبت مشن کے لیے مفید نہیں۔ شفیع الدین احمد دہلی۔ جواب: کوئی بھی شخص جو اجتماعی تحریک چلائے، اس کے لیے نزاع سے بچنا ممکن نہیں۔

نزاع آپ کے اندر نہیں ہوتی، بلکہ وہ دوسروں کے دماغ میں ہوتی ہے، اور وہ اس کو آپ کے ساتھ منسوب کر کے غیر ضروری طور پر نزاعی بنا دیتے ہیں۔ کوئی شخص کتنا ہی محتاط ہو، وہ ایسے لوگوں کے زبان و قلم سے بچ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر سید ابو الحسن علی ندوی اپنی اعتدال پسندی اور غیر اختلافی روش کے لیے مشہور ہیں، مگر ان کے بارے میں بھی متعدد بار اخبار میں اس قسم کی باتیں آتی رہی ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال ہفت روزہ نئی دنیا دہلی کے شمارہ 1 تا 7 دسمبر 1998 میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس میں ایک مسلم رہنما مولانا موصوف کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے کیا مطلب نکالا جائے کہ مولانا علی میاں اندر ہی اندر سازش کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے کر بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اور یہ کہ مولانا علی میاں اس سازش کو سمجھنے میں ناکام رہے اور مسلمانوں کو غلط مشورہ دے دیا ہے، جس کی میں مکمل طور پر مخالفت کرتا ہوں۔ مولانا علی میاں کا بیان بی جے پی کے مقصد کو پورا کر دے گا۔ میں مولانا علی میاں کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں کرتا ہوں، کیونکہ اس سے وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کی مسلمانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔

میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ انہوں نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی ہے جو مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی۔ صفحہ 5: اسی صورتحال کے بارے میں ایک عربی شاعر نے کہا تھا: قَدْ قِيلَ إِنَّ الْإِلَهَ ذُو وَلَدٍ وَقِيلَ إِنَّ الرَّسُولَ قَدْ كَهَنَا مَا نَجَا اللَّهُ وَالرَّسُولُ مَعًا مِنْ لِسَانِ الْوَرَافَ كَيْفَ أَنَا جہاں تک متنازعہ شخصیت کا تعلق ہے تو یہ سراسر ایک اضافی بات ہے۔ تاریخ کے تمام بڑے رہنما اپنے زمانے میں متنازعہ شخصیت تھے، اور بعد کے زمانے میں مسلمہ شخصیت۔ ابو حنیفہ، فخر الدین الرازی، ابن تیمیہ اپنے معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت تھے، مگر بعد والوں کی نظر میں وہ امام بن گئے۔

ہندوستان میں شاہ ولی اللہ، سر سید سید حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اپنے زمانے میں متنازعہ شخصیت بن گئے تھے۔ معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت بننا اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ مستقبل میں اس کو یقینی طور پر غیر متنازعہ شخصیت کا مقام ملنے والا ہے۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.