سوال: میں الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ جو کام کر رہے ہیں اس کا قدردان ہوں، لیکن میری رائے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں رسالہ اور کتاب کے ذریعے ان لوگوں تک دعوت نہیں پہنچائی جا سکتی۔ ہمیں ایسی کوئی ترکیب عمل میں لانا چاہیے کہ ایسے لوگوں تک بھی دعوت کا پیغام پہنچ سکے: سید عبدالحفیظ، بھڑ گاؤں، جل گاؤں۔ جواب: ہر زمانے کی طرح آج بھی مسلمانوں میں خواص اور عوام دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس وقت دونوں ہی طبقوں میں اسلامی دعوت کا کام جاری ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، تبلیغی جماعت ان کے درمیان وسیع اور مؤثر کام کر رہی ہے، اور ماشاءاللہ اس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں۔ ہم نے اصلاً خواص کے طبقے کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ پچھلے 25 سال کی کوشش کے نتیجے میں آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواص کے طبقے میں اسلام کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچ رہا ہے، اور اس کے مثبت نتائج بھی واضح طور پر نکل رہے ہیں۔
اس تحریک کے نتیجے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ملکوں کے ہزاروں لوگوں کو سرِ نو اسلام کی صداقت پر یقین حاصل ہوا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہندوستان کے مسلمانوں میں احتجاج اور ٹکراؤ کا مزاج بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ تعلیم اور تجارت جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ یہ بھی سب سے زیادہ الرسالہ تحریک کا نتیجہ ہے۔
الرسالہ تحریک اگرچہ براہِ راست طور پر تعلیم یافتہ طبقے تک پہنچی ہے، مگر یہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے اپنے حلقے میں عوام تک بھی اسی تعمیری آواز کو پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.