سوال: آپ کی تحریروں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے جیسے کہ آپ شعوری یا لاشعوری طور پر تصوف کے نظریۂ وحدتِ شہود کے قائل ہیں، کیا آپ غیر مسلموں کو اسلام کے قریب لانے کے لیے اس نظریے کی وقتی ضرورت اور مصلحت کے تحت قائل ہیں، یا یہ کہ باقاعدہ اسے ایک ابدی نظریہ اور حقیقت سمجھتے ہیں؟ محمد اورنگزیب صالح، اوکاڑھی، پاکستان۔ جواب: وحدتِ وجود اور وحدتِ شہود دونوں ہی نظریے کو میں غلط سمجھتا ہوں؛ میں نے کبھی اپنی تحریروں میں ان کی تائید نہیں کی، نہ وقتی اور نہ مستقل، یہ دونوں نظریات لفظی فرق کے باوجود حقیقتاً ایک ہیں۔ وحدتِ وجود کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا جز ہیں، اور وحدتِ شہود کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا مظہر ہیں؛ ان دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔
صحیح یہ ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں کو خدا نے اپنے حکم سے پیدا کیا ہے، خالق الگ ہے اور مخلوق الگ، دونوں کے درمیان کوئی وجودی اشتراک نہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.