سوال: مسلمانوں کے اندر باہمی مسلکی جھگڑے کیا اپنی جہالت کی وجہ سے ہیں، یا اس کے لیے غیر قوموں کی طرف سے ہوا دی جاتی ہے؟ یعنی یہ صورتحال مسلمانوں کی کسی داخلی کمزوری کا نتیجہ ہے، یا وہ اغیار کی سازش کا نتیجہ؟ عبدالملک المظاہری، حیدرآباد۔ جواب: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
سورہ الشوریٰ، آیت 30۔ اس کے مطابق ہمیں ہر مصیبت یا افتاد کا سبب خود اپنی کمزوریوں کو سمجھنا چاہیے، نہ کہ اغیار کی مخالفانہ کارروائیوں کا نتیجہ۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے، اس لیے یہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی ضرور ہوں گی؛ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اس کا حل دوسروں سے لڑنا نہیں ہے، بلکہ اس کا حل قرآن کے مطابق یہ ہے کہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر کی طاقت پیدا کی جائے۔
صبر اور تقویٰ ہر سازش کے خلاف یقینی ڈھال ہے۔ سورہ آل عمران، آیت 120۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.