سوال: ہدایہ کا ایک جزئیہ ہے "قتال الكفار واجب وإن لم يبدونا" یعنی کفار سے قتال واجب ہے، اگرچہ وہ ہم سے قتال کی ابتدا نہ کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اسلام اور اہلِ کفر کے درمیان تعلق کی دائمی نسبت محاربے کی ہے، اور اہلِ کفر سے اہلِ ایمان کو جنگ کرنا مطلقاً واجب ہے۔ اسی طرح کی بات امام ابن القیم نے ذات المعاد میں جہاد کے سلسلے میں بحث کرتے ہوئے، اور سید قطب شہید نے اپنی مشہور کتاب "معالم فی الطریق" میں اسی کو بنیاد بنا کر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات علمی اور شرعی طور پر ثابت ہے؟
غطریف شہباز ندوی، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۔ جواب: دائمی محاربے کا نظریہ نہ قرآن کی کسی براہِ راست نص میں ہے اور نہ حدیث میں؛ وہ تمام تر کچھ فقہاء اور علماء کے قیاس پر مبنی ہے، اور دائمی محاربہ جیسے سنگین مسئلہ صرف نصِ صریح سے ثابت ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس سے۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین جب تک تم سے سیدھے یعنی پرامن رہیں، تم بھی ان سے سیدھے یعنی پرامن رہو۔ سورہ التوبہ، آیت 7۔
قرآن کی یہ آیت واضح طور پر مذکورہ نظریے سے ٹکراتی ہے۔ اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے مدھ بھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ سے عافیت مانگو۔ لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية یہ حدیث بھی واضح طور پر مذکورہ نظریے کی تردید ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تم سے آسانی چاہتا ہے۔
سورہ البقرہ، آیت 185۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ دین آسان ہے، الدين يسر مگر مذکورہ نظریہ دین کو نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک جدید مثال کمیونزم ہے۔ اس کو بھی ابدی محاربے کے نظریے پر قائم کیا گیا تھا، مگر تقریباً سو سال کے تجربے کے بعد وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔
اگر ابدی محاربہ اسلام کا حکم ہو تو یہ نعوذ باللہ اسلام کو غیر ابدی قرار دینے کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے اس دنیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے: ہلاکت یا منافقت، یعنی یا تو وہ ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرتے رہیں، یا ابدی محاربے کا عقیدہ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر مصالحت کی روش اختیار کر لیں، جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.