سوال: کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے، اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا کیا جواز ہے؟ محمد عمران، راستریہ سہارا، دہلی۔ جواب: یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔
یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کا رجحان ہے، مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کا پیدا کردہ ہے، ان کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں جو اصول پسند اور باکردار ہوں، اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں "moral teacher" بن کر رہ سکیں۔ میں خود مدرسے کے اسی تعلیمی نظام کا پیداوار ہوں، اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کر سکتا ہوں۔
سیاست اور ٹی وی، یہ دونوں چیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مدرسے کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ موجودہ اخلاقی بگاڑ کے سیلاب کو روک سکیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.