سوال: میں نے کئی مذہبوں کو پڑھا ہے، میرا ماننا یہ ہے کہ سب مذاہب ایک ہیں۔ سب مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جاتے ہیں۔ آج کل لوگوں میں یہ سوچ آ گئی ہے کہ میرا ہی مذہب اچھا اور سچا ہے۔ اس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذاہب یکساں ہیں تو تمام جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ اس بارے میں آپ اپنی رائے دیں۔ گوپال شرما، نئی دہلی۔ جواب: "سب مذاہب ایک ہیں" کا نظریہ ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے، کیونکہ مذہبوں کے درمیان اختلاف ایک واضح حقیقت ہے۔
مثال کے طور پر اسلام میں مخلوق کی الٰہدگی کا تصور ہے، جبکہ ہندو دھرم میں دونوں کو ایک مانا جاتا ہے۔ اسی کا نام ادویت واد ہے۔ اسی طرح اسلام میں پیغمبر کا تصور ہے، اور ہندو دھرم میں خدائی اوتار کا تصور۔ اسلام میں موت کے بعد جزا اور سزا کا تصور ہے، اور ہندو دھرم میں آواگمن کا تصور۔
وغیرہ۔ جہاں تک سماجی اتحاد کا معاملہ ہے، اس کا کوئی تعلق مذہبی اتحاد سے نہیں۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ بار بار ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ مثلاً کورو اور پانڈو دونوں ہندو تھے، اس کے باوجود ان میں زبردست جنگ ہوئی۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں عیسائی قومیں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی 1971 کی جنگ اور افغانستان کی موجودہ جنگ میں دونوں فریق مسلمان ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اختلاف انسانوں کے درمیان ہر حال میں باقی رہتا ہے، وہ کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوتا۔
ایسی حالت میں اتحاد اور امن کی حقیقی بنیاد صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسپرٹ آف ٹالرنس۔ ہمیں لوگوں کے اندر ٹالرنس اور باہمی احترام کا مزاج پیدا کرنا چاہیے، نہ کہ بے فائدہ طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ انسانوں کے درمیان اتحاد کا تعلق خود انسان کے اپنے مزاج سے ہے، نہ کہ کسی قسم کے خارجی نظریے سے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.