سوال۔ ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے مولانا ابو الاعلی مودودی کے خلاف کتاب اس لیے لکھی کہ انہوں نے آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا، لیکن آپ نے بھی تو ایسا ہی کیا۔ آپ کے خلاف تنقیدیں چھپتی ہیں، مگر آپ ان کا جواب نہیں دیتے۔ محمد خالد ندوی، دہلی۔
جواب۔ ایک صورت یہ ہے کہ معترض خط کی صورت میں براہِ راست اپنا اعتراض لکھ کر بھیجے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنا اعتراض یا تنقید اخبار اور رسالے میں شائع کرے۔ علمائے اسلام کا مسلک یہ ہے کہ وہ براہِ راست کیے گئے اعتراض کا جواب تو دیتے ہیں، مگر چھپنے والے اعتراض کے بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
میرا مسلک بھی یہی ہے۔ مولانا مودودی کو میں نے کتاب چھپنے سے پہلے اپنے اعتراض لکھ کر بذریعہ ڈاک بھیجے تھے، مگر اصرار کے باوجود انہوں نے جواب نہیں دیا۔ اس بنا پر دونوں معاملہ یکساں نہیں۔ خط کے ذریعے موصول ہونے والے اعتراض کا جواب میں ہمیشہ دیتا ہوں، مگر چھپے ہوئے مضمون کا جواب صرف اس وقت دیتا ہوں جبکہ وہ سب و شتم نہ ہو، بلکہ اس میں واقعتاً کوئی قابلِ وضاحت نکتہ موجود ہو۔
کتاب، سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.