سوال: اسلام کا پولیٹیکل سسٹم کیا ہے؟ اسلام میں ریاست کا ہیڈ کس طرح مقرر کیا جائے گا؟ اگر شوریٰ کے ذریعے صدرِ ریاست کا انتخاب ہو تو اس انتخاب کا طریقہ کیا ہے؟ امریکہ کے مسلمانوں میں اس معاملے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
جو مسلمان جس ملک سے یہاں آئے ہیں، وہ اپنے ہی ملک کے رائج اسلامی تعبیر کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس معاملے میں صحیح بات کیا ہے؟ ڈاکٹر غنی خان، میامی، امریکہ۔ جواب: اس معاملے میں اسلام میں کوئی واحد متعین طریقہ نہیں ہے۔
قرآن یا حدیث میں سیاسی معاملات کے بارے میں صرف بنیادی یا اثاثی تعلیمات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں چار خلیفہ کو معیاری مانا گیا ہے، مگر چاروں کے معاملے میں انتخاب کا طریقہ الگ الگ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاسی سسٹم کا معاملہ نماز جیسا نہیں ہے۔ نماز کا ایک معلوم اور متعین طریقہ ہے، مگر ٹھیک اسی طرح سیاست کا کوئی واحد مقرر سسٹم نہیں۔
یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی معاملات کے بارے میں کافی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث سے سیاست کے بنیادی اصول کو لے کر ہم اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا آزادانہ نقشہ بنا سکتے ہیں۔ جب تک اسلام کی کسی تعلیم کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو، حالات کی مطابقت سے بنایا ہوا ہر ڈھانچہ اسلامی ڈھانچہ ہوگا۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.