سوال: الرسالہ اکتوبر 98، صفحہ 43 پر قولی و فعلی دعوت کے جواب میں آپ نے فعلی دعوت کی نفی کی ہے، جبکہ قرآن سے فعلی دعوت ثابت ہے۔ مثال کے طور پر سورہ القلم کی یہ آیت: إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ محسن احمد، حیدرآباد۔ جواب: الرسالے کی عبارت آپ نے غور سے نہیں پڑھی، ورنہ اس میں پوری بات موجود ہے۔ فعل بلاشبہ مطلوب ہے، مگر فعل یا کردار آدمی کی ذاتی ذمہ داری ہے، نہ کہ دعوت کی شرط۔
آپ نے قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے، اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ تبلیغ کے لیے عمل نہیں ہے، عمل بلاشبہ ایک شخص کی لازمی ذمہ داری ہے، اور اس کے ترک پر اس سے یقیناً باز پرس ہوگی۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ دعوت کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو پورے معنوں میں باعمل بن چکا ہو۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 85۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.