Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-18)

Urdu · 2 min

سوال: ہمارے علمی حلقے کے ایک دوست کا اصرار ہے کہ آپ سے سوال معلوم کیا جائے۔ وہ یہ کہ اُن کے ایک دوست، جو کبھی آپ کے بہت قریب رہا کرتے تھے، کسی وقت اُن کا آپ کے بیت الخلا میں جانے کا اتفاق ہوا، اور انہوں نے آپ کے بیت الخلا میں بخاری شریف کو رکھا ہوا دیکھا۔ ایسے مقام پر بخاری شریف کا پایا جانا اُن کے لیے نفرت کا سبب بن گیا، اور وہ آپ سے دوری اختیار کر گئے۔ اور ہمارے علمی حلقے میں سبھی اس تعلق سے وضاحت چاہتے ہیں کہ کیا یہ ایک حقیقت ہے یا پھر آپ کی دشمنی میں ایک غلط بات اڑا دی گئی ہے۔

محسن احمد، حیدرآباد۔ جواب: یہ صحیح ہے کہ میرے مطالعے کے کمرے سے ملحق باتھ روم میں ایک الماری پر کچھ جلدیں رکھی ہوئی ہیں، مگر یہ جلدیں صحیح البخاری کی نہیں ہیں، بلکہ وہ اخبار کی جلدیں ہیں، اور جدید طرز کے ایک صاف ستھرے باتھ روم کی ایک الماری میں کسی اخبار کی جلدیں رکھنے میں یقینی طور پر کوئی حرج نہیں۔ صحیح البخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «إِيَّاكُمْ وَالضَّنَّ فَإِنَّ الضَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ» یعنی تم لوگ گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ آپ کے دوست نے خود صحیح البخاری کی اس روایت پر عمل نہیں کیا۔

انہیں چاہیے تھا کہ باتھ روم میں رکھی ہوئی جلد کو کھول کر دیکھتے، یا مجھ سے اس کی بابت پوچھتے۔ ایسا نہ کر کے انہوں نے صرف گمان کی بنیاد پر ایک بے بنیاد رائے قائم کی، اور اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہے، بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں ایک قسم کا کذب ہے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.