سوال: قرآن میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے، نماز پڑھنے کا نہیں، تو موجودہ پڑھی جانے والی نماز کن احکامات کی روشنی میں پڑھی جا رہی ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز قائم کرنے کا مطلب نظم و نسق درست کرنا ہے، اور یہ کہ سجدے کا مطلب تعمیلِ حکم ہے، یہ کہاں تک درست ہے؟ محمد بدرالدین شمیم، ناگپور۔ جواب: صلاۃ کا مطلب نماز پڑھنا نہیں ہے، نماز بلکہ نماز ادا کرنا ہے۔
صلاۃ کا مطلب نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ نماز ادا کرنا ہے۔ اسی طرح اقامہ کا مطلب نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس طرح اقامہ کا مطلب بھی وہی ہے جو صلاۃ کا مطلب ہے، البتہ اقامہ کے لفظ میں اہتمام کے ساتھ ادائیگی کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر علمی اعتراض ہے۔
قرآن میں نماز کا حکم صرف اقامہ کے لفظ کے ساتھ نہیں آیا ہے، بلکہ مختلف الفاظ کے ساتھ آیا ہے، مثلاً صلاۃ، حافظہ، وغیرہ۔ ان الفاظ کے لغوی معنی میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے، مگر سب کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ نماز کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جائے۔ قرآن میں اقامہ کے سوا جن الفاظ کے ساتھ نماز کا حکم آیا ہے، ان میں سے کچھ کے حوالے یہ ہیں: القیامہ 31، العلق 10، الکوثر 2، المعارج 22، المدثر 42، النساء 102، البقرہ 45، البقرہ 153، البقرہ 238، وغیرہ۔ احادیث میں بار بار نماز کا ذکر لفظ اقامت کے بغیر آیا ہے، تاہم صلی کا مطلب بھی عین وہی ہے جو اقم الصلاۃ کا ہے۔
اقامت کا لفظ دراصل برائے وضاحت ہے۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے وضاحتی الفاظ بھی آئے ہیں، مثلاً محافظت یا خشوع وغیرہ۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو پوری پابندی کے ساتھ اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کیا جائے۔ نماز کو اس کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں کے اعتبار سے انجام دیا جائے۔
یہی مطلب ہے نماز کی اقامت کا۔ نماز ثابت شدہ طور پر ایک عبادتی فعل ہے۔ اسلام میں نظم و نسق اور احکام کی تعمیل بھی ہے، مگر ان چیزوں کا حکم دوسری آیات سے نکلتا ہے، نہ کہ نماز کی آیات سے۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ جن آیتوں میں اقامت کا لفظ آیا ہے، وہاں بھی قائم کرنے کا حکم ہے، نہ کہ کچھ اور قائم کرنے کا۔
اس لیے ان آیتوں میں بھی نماز ہی کی اقامت، بالفاظِ دیگر نماز کی کامل ادائیگی مراد ہوگی، نہ کہ نماز کے سوا اور خود ساختہ چیز کی اقامت یا ادائیگی۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 16۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.