Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-15)

Urdu · 3 min

سوال: آج کل ہمارے یہاں یہ ذکر زوروں پر ہے کہ آپ نے "وندے ماترم" کہنا مسلمانوں کے لیے جائز کر دیا ہے۔ اگر یہ جائز ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے بہت قریب لا دے گا، دشمنی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اگر مسلمان زمین کی وندنا کر سکتا ہے تو پھر ہمالہ، گنگا، سرسوتی، گائے وغیرہ کی وندنا کیوں نہیں کر سکتا؟ اور اگر کر سکتا ہے تو پھر شرک کیا ہے؟

شاکر وارث، مراد آباد۔ جواب: "وندے ماترم" کی شرعی نوعیت کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو دوسرے علماء کی رائے ہے۔ اس معاملے میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی، اس کی ذمہ داری اردو کی زرد صحافت پر ہے۔ اس موضوع پر میرے آرٹیکل کا عنوان یہ تھا: "وندے ماترم: ایشو یا نان ایشو؟

" اردو اخبار والوں نے اس کو بدل کر "وندے ماترم: جائز یا ناجائز" بنا دیا۔ اس بدلے ہوئے عنوان کی بنا پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ میں "وندے ماترم" کو جائز بتا رہا ہوں، حالانکہ اصولی اعتبار سے اس کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں، اور نہ میں نے کبھی ایسا کہا۔ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اس معاملے کو عوامی احتجاج کا ایشو نہ بنایا جائے، کیونکہ اس طرح کے معاملات میں عوامی احتجاج صرف الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں "وندے ماترم" کو لازمی ٹھہرانا دستور کے خلاف ہے۔

مجھے اس سے اتفاق ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دستوری نزاع کا فیصلہ جلسوں اور تقریروں کے اسٹیج پر نہیں ہوتا، اس کے فیصلے کا مقام عدالت ہے۔ اس معاملے میں ہمیں چاہیے کہ ہم ایک طرف متبادل اسکول قائم کریں اور دوسری طرف اپنی جدوجہد کے لیے عوامی مظاہرے کے بجائے عدالتی طریقہ اختیار کریں۔ گویا کہ میرا اختلاف نفسِ مسئلے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ طریقہ کار کے بارے میں ہے۔

ہندوستان جیسے ملک میں کسی اقلیت کے لیے مظاہراتی طریقہ ہمیشہ ناکام ہوگا، اور عدالتی طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ مظاہراتی طریقے میں فیصلہ کن چیز تعداد ہوتی ہے؛ یہاں اقلیتی گروہ اپنی عددی کمی کی بنا پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس عدالتی طریقے میں سارا انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ اس لیے جو گروہ حق ہو، اس کی کامیابی یقینی بن جاتی ہے۔

گویا کہ ایک صورت میں فیصلے کی بنیاد ہمارے ہاتھ میں ہے اور دوسری صورت میں فیصلے کی بنیاد فریقِ ثانی کے ہاتھ میں۔ "وندے ماترم" ابھی تو لازم نہیں ہے، لیکن اگر اس کو لازم کیا جائے تو اس کو چیلنج کرنے کی جگہ—اس کو چیلنج کرنے کی صحیح جگہ عدالت ہے، نہ کہ عوامی اسٹیج۔ کتاب: "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.