Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-14)

Urdu · 2 min

سوال: مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے، جس کی کئی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ 1400 سال پہلے قرآن نے جن چیزوں کے بارے میں مجمل اشارے کیے تھے، وہ تمام اشارات حالیہ سائنسی انکشافات کے نتیجے میں صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ گویا کہ ثابت شدہ سائنس اور قرآن کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ لیکن دوسری طرف، دیگر مذاہب سے متعلق قومیں، یعنی یہود و نصاریٰ بھی اپنی اپنی مقدس کتابوں کے بارے میں یہی دعویٰ کرتی ہیں۔

اور یہ قومیں بھی اپنی کتابوں کے حق میں سائنسی تصدیقات موجود ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا قرآن کے دعوے میں ایسی کوئی وجہِ امتیاز ہے جو اس کو دوسرے دعویٰ سے الگ کرتی ہو؟ ابرار احمد رفعت، سورت۔ جواب: قدیم آسمانی کتابوں میں اگرچہ تحریف ہوئی ہے، اور ان میں انسانی کلام شامل ہو گیا ہے، تاہم ان میں اب بھی ایسے کچھ اجزا موجود ہیں جو خدائی الہام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان اجزا میں ایسی باتیں ہیں جو بعد کو دریافت ہونے والی سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان میں انسانی کلام کا جو حصہ ملا ہوا ہے، اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس دوسرے جز میں واضح طور پر ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی تصدیق سائنسی دریافتوں سے نہیں ہوتی۔ اس طرح دوسری مقدس کتابوں میں دونوں قسم کے اجزا پائے جاتے ہیں: مطابق بھی اور غیر مطابق بھی۔

مگر قرآن کی صفت یہ ہے کہ وہ پورا کا پورا محفوظ الہام کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ انسانی ملاوٹ سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اس لیے قرآن پورا کا پورا سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جو چیز دوسری مقدس کتابوں میں صرف جزوی طور پر پائی جاتی ہے، وہ قرآن میں کلی طور پر موجود ہے۔

یہی اس معاملے میں قرآن کا امتیازی وصف ہے۔ اس معاملے کی تفصیلی مثالیں راقم الحروف کی کتابوں، مثلاً عظمت قرآن وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.