سوال: آپ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام "دورِ جدید" کا خالق ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں بھی اس نام سے چھپ چکی ہے، "Islam: The Creator of the Modern Age"۔ لیکن میں نے مریم جمیلہ صاحبہ کا ایک تبصرہ پڑھا جس میں وہ لکھتی ہیں کہ اسلام دورِ جدید کا خالق نہیں ہے، بلکہ اسلام دورِ جدید کا انتخاب ہے۔ Islam is not the creator of modern age, but the option of modern age.
یہ بات انہوں نے اپنی کتاب "Islam and the West" میں لکھی ہے۔ آپ اس کے جواب میں کیا کہتے ہیں؟ ابرار احمد رفعت، سورت۔ جواب: یہ بات درست ہے کہ اسلام دورِ جدید کا انتخاب، یعنی choice ہے۔
جدید ذہن سائنٹیفک مذہب چاہتا ہے، اور ایسا مذہب صرف اسلام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی بلاشبہ درست ہے کہ اسلام جدید سائنسی دور کا خالق ہے۔ مریم جمیلہ صاحبہ کو اس معاملے میں غلط فہمی شاید اس لیے ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ میں ڈائریکٹ معنوں میں یہ بات کہتا ہوں، یعنی ڈائریکٹ طور پر اسلام دورِ جدید کا خالق ہے۔ مثلاً یہ کہ کار اور ہوائی جہاز کی ٹیکنالوجی قرآن نے دی ہے، مگر یہ میرا کہنا نہیں۔
جب میں کہتا ہوں کہ اسلام دورِ جدید کا خالق ہے تو میں اس کو بالواسطہ مفہوم، یعنی indirect sense میں کہتا ہوں۔ اسلام کا مقصد اصلًا شرک کو ختم کرنا اور توحید کو قائم کرنا تھا، مگر مشرکانہ ذہن کا خاتمہ جدید سائنس کے آغاز کا سبب بن گیا۔ جیسا کہ میں نے کتاب "یعنی اسلام دورِ جدید کا خالق" میں دکھایا ہے کہ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مشرکانہ عقائد کا غلبہ تھا۔ اس مشرکانہ عقیدے نے نیچر وَرشِپ پیدا کی، اور نیچر وَرشِپ نیچر کی تحقیق میں رکاوٹ بن گئی۔
اسلامی انقلاب کے ذریعے اس ذہنی رکاوٹ، یعنی mental block، کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں نیچر کی آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہوا، جو بالآخر جدید سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.