سوال: عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں، ایسا کیوں ہے؟ آپ کے خیال میں اگر کوئی قائد ہے تو وہ کون ہے؟ اگر کوئی قائد نہیں ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ آخر مسلم ملت قیادت سے خالی کیوں ہو رہی ہے؟
نسیم احمد اعظمی، موت۔ جواب: یہ سوال بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے، مگر میرے نزدیک وہ درست نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کا مسئلہ فقدان قیادت نہیں ہے، بلکہ ان کا اصل مسئلہ فقدان قبولیتِ قیادت ہے۔ ایک ہندی مثل ہے کہ "مانو تو دیو، نہیں تو پتھر"۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی اہل ہو، وہ خود سے اپنی قوم کا قائد نہیں بن جاتا، بلکہ وہ قوم کے قبول کرنے سے قائد بنتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مسٹر محمد علی جناح دونوں ہم عصر تھے، تقریباً بلا اختلاف یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے اندر قیادت کی اعلیٰ صلاحیت موجود تھی۔ امکانی طور پر مسٹر محمد علی جناح سے زیادہ بڑے قائد تھے۔ مگر اس زمانے کے مسلمانوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کو بحیثیت قائد کے قبول نہیں کیا۔
اس کے مقابلے میں مسٹر محمد علی جناح کو مسلمانوں کے درمیان غیر معمولی مقبولیت ملی۔ چنانچہ اس زمانے کے مسلمانوں کے درمیان مسٹر محمد علی جناح قائد اعظم بن گئے، اور مولانا ابوالکلام آزاد صرف شعبہ شعبہ بن کر رہ گئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کا یہی مزاج آج بھی باقی ہے: وہ اہل افراد کو اپنا رہنما بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل افراد پیدا ہو کر مر جاتے ہیں، اور وہ قیادت کے میدان میں اپنے فرائض ادا نہیں کر پاتے۔
کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.