سوال: ہندوستان میں ہندو-مسلم مسئلہ بہت پرانا ہے، وہ 1947 سے پہلے بھی تھا اور 1947 کے بعد بھی باقی ہے۔ آپ کے نزدیک اس مسئلے کی جڑ کیا ہے، اور اس کا حل کیا ہے؟ آپ اس مسئلے کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں، نصیر احمد سہرسا؟ جواب: میرے نزدیک یہ 50-50 کا معاملہ ہے، یعنی اس معاملے کی 50% ذمہ داری ہندوؤں پر ہے اور 50% ذمہ داری مسلمانوں پر۔
ہندوؤں کی غلطی کی جڑ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو "غیر" کی نظر سے دیکھتے ہیں، حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کی 99% تعداد خود ہندوؤں سے ہی نکل کر آئی ہے۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ سارے مذاہب ایک ہیں، اور تمام مذاہب سچے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کچھ ہندوؤں نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کر لیا، تو ہندو عقیدے کے مطابق وہ ایک سچے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے سچے مذہب میں داخل ہو گیا۔ ایسی حالت میں کم از کم ہندوؤں کو ہرگز اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اور نہ اسے مسلمانوں کو غیر سمجھنا چاہیے۔
مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ قدیم ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کو اسلامی حکمران قرار دیتے ہیں، اور ان کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں جس طرح انہیں اسلام کا دفاع کرنا چاہیے۔ چونکہ ہندو ان حکمرانوں کو حملہ آور سمجھتے ہیں، اس لیے جب مسلمان ان کی حمایت کرتے ہیں تو ہندوؤں کو ایسے مسلمانوں سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک دونوں ہی کی طرف سے یہ صرف سوچ کی غلطی کا معاملہ ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.