سوال: دریائے سندھ کے اُس پار جو لوگ بستے ہیں، اُن کو خود مسلم فاتحین نے ہندو کہا تھا۔ اس کے مطابق ہمارا کہنا ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگ ہندو ہیں، خواہ مذہب کے اعتبار سے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ پھر آپ لوگ اپنے آپ کو ہندو کہلانے کو کیوں برا مانتے ہیں؟ نشان کمار، نئی دہلی۔
جواب: ہندوستان یا بھارت اس وقت مسلم زیرِ حکومت نہیں ہے؛ آزادی کے بعد یہاں کا سیاسی اور سماجی نظام دستورِ ہند کے تحت چل رہا ہے۔ اس دستور میں اس ملک کے تمام باشندوں کو "انڈین" بتایا گیا ہے، چنانچہ پاسپورٹ وغیرہ میں اس ملک کا ہر رہنے والا اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ اس ملک کے تمام باشندوں کی نیشنلٹی ہندو ہے، دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے تمام بسنے والوں کو ہندو کہا جائے، تو اُن کو سب سے پہلے دستور میں ترمیم کر کے اس کی متعلقہ دفعات کو بدلنا چاہیے۔
موجودہ حالت میں اس قسم کا مطالبہ کرنا دستورِ ہند کے خلاف ہے، اس لیے کسی کو ایسا کہنے کا حق ہی نہیں۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.