سوال: آپ غیر مسلموں کے اجتماعات میں جاتے ہیں، دعوتی اعتبار سے ایک اچھی بات ہے، مگر جہاں تک معلوم ہوا ہے آپ وہاں اسلامی عقائد کو پیش نہیں کرتے، بلکہ اسلام کے اخلاقی تعلیمات اور معاملات کو پیش کرتے ہیں۔ دعوت کا یہ طریقہ درست نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ سنت نبوی کے مطابق اسلامی عقائد کو ان کے سامنے پیش کریں۔ زکی نور عظیم، ندوی، لکھنؤ۔
جواب: آپ کی یہ اطلاع درست نہیں۔ دعوت کوئی ایک ریکارڈ بجانے کا نام نہیں ہے، بلکہ مخاطب کی نفسیات اور موقع و محل کی رعایت سے کوئی بات پیش کرنے کا نام ہے، اور میں خدا کے فضل سے یہی کرتا ہوں۔ مثلاً غیر مسلموں کے ایسے کئی اجتماعات ہیں جن میں میں نے ویدانت کی فلاسفی، یعنی ادویت وات کے مقابلے میں اسلام کے تصورِ توحید کو پیش کیا۔ بعض اجتماعات میں جہاں ایسے لوگ اکٹھا تھے جو اسلام کو تشدد پسند مذہب سمجھتے تھے، ان کے سامنے اسلام کو رحمت کلچر کے طور پر پیش کیا۔
اسی طرح بعض اور اجتماعات میں جہاں ایسے مخاطبین تھے جو اسلام کی تاریخ کے بارے میں شک و شبہ میں تھے، وہاں اسلامی تاریخ کی صحیح تصویر پیش کی۔ بعض اور موقع پر جہاں محسوس ہوا کہ لوگ اسلام کے نام سے متوحش ہوتے ہیں، وہاں یہ توحش دور کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں۔ بعض مواقع پر جہاں لوگ مسلمانوں کے بعض اعمال کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں بدگمان ہو رہے تھے، وہاں بتایا کہ اسلام کو سمجھنے کا ماخذ قرآن و سنت ہے، نہ کہ مسلمانوں کی روش۔ یہی طریقہ سنت نبوی سے ماخوذ ہے۔
اسی کو ایک صحابی نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: كَلِّمِ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.