سوال: کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقات میں برکت ہے، اور سود میں برکت نہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ براہِ کرم تشریح فرمائیں۔ مشتاق احمد دہلی۔
جواب: یہاں "برکت" کا لفظ کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ معلوم اقتصادی معنی میں ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ زکوٰۃ یا صدقہ دوسروں کو دینے کا عمل ہے؛ اس کے برعکس سود دوسروں سے لینے کا عمل۔ کسی سماج میں جب ایسا ہو کہ لوگ اپنی کمائی کا ایک حصہ دوسروں کو دینے لگیں، تو وہاں عمومی خوشحالی پیدا ہوگی۔ کمایا ہوا مال صرف کمانے والے کے پاس نہیں رہے گا، بلکہ توسیع پا کر وہ دوسروں تک بھی پہنچتا رہے گا۔
اس کے مقابلے میں سودی نظام میں یہ ہوگا کہ کچھ لوگ قرضوں کے ذریعے دوسروں کے مال کا ایک حصہ اپنے لیے حاصل کرتے رہیں گے۔ سماج کی دولت پورے سماج میں گردش نہیں کرے گی، بلکہ وہ کچھ افراد کے پاس سمٹ کر رہ جائے گی۔ یہی مطلب ہے بے برکتی کا۔ زکوٰۃ اور صدقہ کا طریقہ خوشحالی کو عمومی بناتا ہے، اور سود کا طریقہ خوشحالی کو کچھ لوگوں تک محدود کر دیتا ہے۔
کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.