سوال: کہا جاتا ہے کہ چیزوں سے نہیں ہوتا، خدا سے ہوتا ہے۔ خدا سے ہونے کا یقین اور اسباب سے کچھ نہ ہونے کا یقین، یہ کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے، اس کے بارے میں بتائیں۔ شکیل احمد وروڑا، چندرپور۔ جواب: اس مسئلے کا جواب حدیث الترمذی کتاب القیامہ میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسلمان نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر توکل کروں، یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو پھر توکل کرو۔ يا رسول الله، اعقلها واتوكل، أو أطلقها واتوكل؟ قال: اعقلها واتوكل.
اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہے، یہی معاملہ توکل کا ہے۔ اس دنیا کا نظام بظاہر اسباب و علل پر قائم ہے، یہاں کے حالات کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح اسباب کی رعایت کرتے ہوئے اپنا عمل کرے۔ اس کے باوجود اس کو خدا ہی پر بھروسہ کرنا ہے۔ پھر بھی اس کی کیفیت یہ ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔
مومن وہ ہے جو ظاہری اعتبار سے ہر قسم کے اسباب فراہم کرے، مگر داخلی طور پر اس کا یقین یہ ہو کہ جو کچھ ہوگا خدا کے حکم سے ہوگا۔ خدا کے حکم کے بغیر یہاں نہ کسی کو کچھ ملنے والا ہے اور نہ کسی سے کچھ چھینا جانے والا ہے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.