سوال: قربانی یعنی ذبیحہ جذبۂ رحم کے منافی ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جانوروں کے تڑپنے کے بعد جو گوشت ہمیں کھانے کو ملتا ہے، اس کی "تڑپ" اگر ذہن میں رکھیے تو کھانے کو جی نہیں چاہتا، جبکہ یہ گوشت کھانا اسلام میں جائز ہے۔ شکیل احمد، وارورا، چندرپور۔ جواب: یہ مسئلہ صرف قربانی کا نہیں ہے، بلکہ وہ خود قانونِ فطرت کا ہے؛ فطرت کے قانون کے مطابق آپ خواہ کچھ بھی کریں—ہوا میں سانس لیں، پانی پیئیں، سبزی کھائیں، دودھ پیئیں—ہر حال میں آپ جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔
قربانی میں ایک جانور کو ہلاک کیا جاتا ہے، اور عام حالات میں بیکٹیریا کو؛ اور زندہ جسم ہونے کے اعتبار سے جانور اور بیکٹیریا میں کوئی فرق نہیں۔ زندہ رہنے کے لیے ہمیں خوراک کی ضرورت ہے، اور فطرت نے زندہ اشیاء ہی کو ہماری خوراک بنایا ہے۔ غیر زندہ اشیاء، یعنی مردہ حیوان یا پتھر وغیرہ کو ہم اپنی خوراک نہیں بنا سکتے۔ ایسی حالت میں اصل سوال قربانی کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی زندہ رہے یا خودکشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر لے۔
کسی کو یہ حق تو ہے کہ وہ کھانا پانی چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کر لے، مگر کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ قربانی نہ کرو۔ کیونکہ قربانی تو ہر آدمی عملاً کر رہا ہے۔ ہر آدمی ہر لمحہ ہزاروں جانوروں کو مار کر انہیں اپنی خوراک بناتا ہے؛ اس کے بعد ہی وہ اس دنیا میں زندہ حالت میں باقی رہتا ہے۔ قربانی اس دنیا میں زندگی کا ایک عام قانون ہے، وہ مخصوص طور پر جانور کے ذبیحے سے متعلق مسئلہ نہیں۔
کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.