سوال: اس وقت مسلم دنیا میں بہت سی اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں، آپ اپنے اور ان کے درمیان کیا فرق سمجھتے ہیں؟ جواب: ان مختلف تحریکوں کو وسیع تقسیم یعنی broad division میں دو قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے: ایک وہ جو اسلام کو دعوت و تبلیغ کے مشن کے طور پر لے کر اٹھی ہیں، دوسری وہ جو سیاسی انقلاب کے مقصد کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ایک کا نشانہ اگر دعوتی اسلام ہے تو دوسرے کا نشانہ سیاسی اسلام۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صحیح اسلامی تحریک ہے جو دعوتی اسلام کے لیے اٹھے؛ سیاسی اسلام کو لے کر اٹھنے والوں کا کیس صراط مستقیم سے انحراف یعنی deviation کا کیس ہے۔
قرآن کے الفاظ میں، وہ اتباعِ سبل ہے، نہ کہ اتباعِ صراط۔ یہ اس معاملے کا نظری پہلو ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک عملی پہلو بھی ہے: وہ یہ کہ دعوتی اسلام کی موجودہ تحریک زیادہ تر فضائل کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہے، جبکہ سیاسی یا انقلابی اسلام کی تحریک دلائل کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوتی اسلام کے مشن کی صحت کے باوجود امت کا intellectual طبقہ، یعنی intellectual class، ابھی تک اس سے جڑ نہ سکا۔
یہ طبقہ، جس کو خواص کا طبقہ کہا جا سکتا ہے، وہ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے بات کو دلائل کے اسلوب میں سمجھنا چاہتا ہے، مگر دعوتی اسلام کے حاملین کا موجودہ اندازِ خطاب ان کے دلائل پسند مزاج کو مطمئن نہیں کر پاتا۔ اسی بنا پر آج یہ صورتحال ہے کہ امت کے طبقۂ خواص کا بیشتر حصہ سیاسی اسلام سے قریب اور دعوتی اسلام سے دور ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص مقصد دعوتی اسلام کو دلائل کی بنیاد پر کھڑا کرنا ہے، تاکہ امت کا ذہن اور باشعور طبقہ دعوتی اسلام کی اہمیت کو سمجھے اور اپنے آپ کو اس مہم میں لگائے۔ یہ انتہائی ضروری ہے، کیونکہ امت کا طبقۂ خواص جب تک دعوتی مشن میں نہ لگے، صرف طبقۂ عوام کی بنیاد پر کوئی گہری تحریک برپا نہیں کی جا سکتی، اور نہ کوئی بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
دعوتی اسلام کے موجودہ طریقے کے ذریعے محدود معنوں میں عوام کے اندر کچھ اصلاح کا کام کیا جا سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ اسلام کے از سرِ نو تاریخ بنانے کا ہے، جس کو تجدیدِ دین کہا جا سکتا ہے۔ اور حقیقی تجدیدِ دین اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وقت کے اہلِ علم کو دعوتی اسلام کا حامی نہ بنایا جائے۔ تفصیلات کے لیے رجوع کریں: الرسالہ، دسمبر 1991 عیسوی، کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.