سوال: آپ کی کتاب "فکر اسلامی" پڑھی، بظاہر اس کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک حریت پسند آدمی ہیں؛ کیا یہ لفظ آپ کے لیے بولنا درست ہوگا؟ ابرار احمد رفعت، سورت۔ جواب: حریت پسند کا لفظ میرے لیے درست نہیں۔ اگر آپ میری تمام کتابیں پڑھیں تو آپ کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ میرا پورا فکر قرآن و حدیث اور علمائے حق کے مطالعے سے ماخوذ ہے۔ میں مکمل طور پر تقلیدی اسلام کا حامی ہوں؛ فرق صرف یہ ہے کہ میں قدیم بات کو جدید اسلوب میں بیان کرتا ہوں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مرحوم قاری محمد طیب صاحب ان الفاظ میں بیان کیا کرتے تھے: "مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں"۔ ماہ جولائی 1991 عیسوی میں پٹنہ کے گورنمنٹ اردو لائبریری کے ہال میں "الرسالہ سمپوزیم" کا انعقاد ہوا تھا، جس میں مولانا نے تقریر کی تھی۔
اس سمپوزیم میں کیا گیا ایک سوال بطور نقل نمونہ یہاں کیا جاتا ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 6۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.