Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-4)

Urdu · 6 min

سوال: ایک صاحب قاہرہ سے لکھتے ہیں، "آپ کی کتاب جو یہاں 'حکمت الدین' کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس پر ایک جدال پیدا ہو گیا ہے؛ کچھ لوگ اس کے سخت مؤید ہیں اور کچھ لوگ سخت مخالف۔ " قاہرہ یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان اس کتاب کے بارے میں سیمینار بھی ہو چکا ہے۔ مخالف گروپ کا کہنا ہے کہ آپ نے جہاد ہی کو ختم کر دیا ہے اور دین کو صوم و صلاۃ میں محدود کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کے جرائد میں بعض تنقیدی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں۔

الرسالہ، فروری 1977 عیسوی۔ جواب: "جہاد بلاشبہ اسلام میں افضل ترین عبادت ہے، مگر جہاد کو قتال کے معنی میں لینا اتنا ہی غلط ہے جتنا اس کو دین کی فہرست سے خارج کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ امت محمدی کا جہاد دعوت ہے۔ قرآن میں شہادتِ حق کی راہ میں قوت صرف کرنے کو جہاد کہا گیا ہے، سورہ حج، آخر۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کے ذریعے لوگوں کے اوپر تبلیغی جہاد کرو، سورہ فرقان، آیت 52۔ قرآن میں دعوت کا حکم آیا تو خود اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بھاری حکم، سورہ مزمل، آیت 5 قرار دیا۔ دعوت و تبلیغ کو اتنا بڑا کام بتایا گیا کہ اس میں پوری طرح لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلکان کر لے، لعلک باخع نفسک۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تحریکوں سے جو غلطیاں ہوئیں، ان میں یہ غلطی سرِ فہرست ہے کہ انہوں نے جہاد کا مطلب قتال یا سیاسی معرکہ آرائی سمجھ لیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کا میدان دعوت کے بجائے سیاست بن گیا، اور مومنانہ سرفروشی کے جذبے کی تسکین کے لیے اس دنیا میں صرف دو کام باقی رہ گئے: اگر موقع ہو تو تلوار زنی، ورنہ تقریر بازی۔ مصر، الجزائر، اور ہندوستان اس کی نمایاں مثال ہیں۔ ان علاقوں میں جب استعمار یا باطل اقتدار کے خلاف جنگ و پیکار کے مواقع تھے، تو لاکھوں مجاہدین اپنے جان و مال کی قربانی دیتے رہے، اور جب اس کا موقع ختم ہو گیا تو اب انہیں اس کے سوا کوئی کام نظر نہیں آیا۔ اور جب اس کا موقع ختم ہو گیا تو اب انہیں اس کے سوا کوئی کام نظر نہیں آتا کہ مفروضہ طاغوتی سیاست کے خلاف تحریر و تقریر کے لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اور جب اس کا موقع بھی باقی نہ رہے تو گوشہ گیر ہو کر ختم خواجگان کے دور شروع کر دیں۔

جہاد ہی وہ طاقت ہے جس سے اسلام اس زمین پر قیام و استحکام حاصل کرتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جذبہ جہاد کے استعمال کے باوجود اسلام کو اس دور میں قیام و استحکام حاصل نہ ہو سکا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کا جذبہ اپنے نکاس کا صحیح راستہ نہ پا سکا اور غلط سمت میں بہہ کر ضائع ہو گیا، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک بڑے دریا کا پانی بے پناہ مقدار میں بہہ کر سمندر میں جا گرے، اور اس کے ساحل کے دونوں طرف کھیتیاں پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ کر ختم ہو رہی ہوں، صرف اس لیے کہ دریا کے پانی کو ان کھیتوں کی طرف موڑنے کا انتظام نہ ہو سکا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے کان میں کچھ الفاظ ڈال دیے جائیں یا ان کی غلط روش پر تنقید کر دی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک انتہائی قربانی کا عمل ہے: اپنا وقت، اپنے جذبات، اپنا مال غرض اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو دعوت کہتے ہیں۔ قرآن میں حکم ہے کہ مدعو کے لیے داعی کے دل میں انتہائی خیرخواہی ہو۔ جو بات کہی جائے وہ قولِ بلیغ کی زبان میں اور مخاطب کی اپنی قابلِ فہم اصطلاحوں میں ہو۔ مدعو کی طرف سے ہر قسم کی ایذا پر مکمل صبر کیا جائے۔

مدعو کی طرف سے کسی اجر کی توقع نہ رکھتے ہوئے اپنا مال اور اثاثہ اس راہ میں خرچ کیا جائے۔ مدعو کی طرف سے اعراض پر جھنجھلانے کے بجائے اس کی ہدایت کے لیے دعائیں کی جائیں۔ ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیفِ قلب کی جائے۔ دعوتی کام کو مسلسل تا عمر جاری رکھا جائے۔

ایسا ایک عمل اگر اس کے پورے آداب کے ساتھ شروع کیا جائے اور اس کا مکمل حق ادا کیا جائے تو یہ اتنا بڑا اور اتنا نفس کش عمل ہے کہ بڑے سے بڑے انسان کی شخصیت اس کی ذمہ داریوں سے بلبلا اٹھے اور کبھی اس کی ادائیگی کی طرف سے اپنے کو سبک دوش نہ سمجھے۔ اس دعوتی عمل کے ظہور کے لیے قدیم زمانے میں جو طریقے رائج تھے، اب ان میں بے شمار نئے طریقوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لیے موجودہ زمانے میں دعوتی کام نے بھی تدابیر اور ذرائع کے اعتبار سے نئی وسعت اختیار کر لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا جہاد آج اتنا وسیع الاطراف ہو چکا ہے کہ پیٹروڈالر کی محیب دولت بھی اس کا حقیقی بل ادا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمانی فرق کو دیگر مذاہب، مثال کے طور پر عیسائیت، نے خوب سمجھا اور اس کو بھرپور طور پر اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے استعمال کیا، مگر مسلمان اس میدان میں اس قدر پیچھے ہیں کہ جدید امکانات کا انہیں شعور تک نہیں۔ حتیٰ کہ دعوتی کام ان کو اتنا معمولی نظر آتا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے پھس پھسے کام کو جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 4۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.