Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-3)

Urdu · 2 min

سوال: بہت سے لوگ جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھتے ہیں اور اس کا بہت ثواب بتاتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی تحقیق کیا ہے؟ الرسالہ، جنوری 1977 عیسوی۔ جواب: متعدد روایتوں میں سورہ کہف کو جمعہ کے دن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی ہے، مگر یہ تمام روایتیں ضعیف ہیں۔

قوی روایت صرف وہ ہے جس کو احمد اور مسلم نے قطادہ سے نقل کیا ہے۔ من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من الدجال جس شخص نے سورہ کہف کی ابتدائی 10 آیتوں کو محفوظ رکھا، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ اس روایت میں نہ تو پڑھنے کا ذکر ہے نہ جمعہ کے دن کا، صرف یہ کہا گیا ہے کہ سورہ کہف کی ابتدائی 10 آیتوں میں جو تعلیم دی گئی ہے، جو شخص ان کو ذہن نشین کر لے گا اور ان کو اپنی زندگی میں ملحوظ رکھے گا، وہ دجال کے ظہور کے وقت اس کے فتنے سے بچا رہے گا۔ اب سورہ کہف کی ابتدائی 10 آیتوں کو دیکھیے۔

غور کیا جائے تو ان میں دو اسوہ ملتا ہے: ایک پیغمبر اسلام کا اسوہ جو لوگوں کو خدا پرست بنانے کی کوشش میں اپنے کو ہلاک کیے دے رہے تھے، سورہ کہف آیت 6۔ دوسرے آپ سے قبل کے کچھ صالح نوجوان، یعنی اصحاب کہف کا اسوہ، جنہوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ لوگوں کے درمیان اپنے دین کو بچا نہیں سکتے، بستی سے نکل کر غاروں میں جا چھپے۔ سورہ کہف آیت 10۔ سورہ کہف کی ابتدائی 10 آیتوں کا سبق یہ ہے کہ جب زمین پر فتنے کی حالت پیدا ہو جائے اور خدا کی خلاف ورزی ہونے لگے، تو اہل ایمان کے لیے دو ہی راستے ہیں: اول یہ کہ غافل اور سرکش لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں اور اس میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔

دوسرے یہ کہ اگر وہ دیکھیں کہ معاملہ اس نوبت کو پہنچ چکا ہے کہ دوسروں کی اصلاح کے بجائے وہ خود اپنے آپ کو آزمائش میں مبتلا کر لیں گے، تو ایسی حالت میں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو عوام الناس سے الگ کر لیں اور کسی گوشے میں سمٹ کر زندگی کے بقیہ ایام پورے کر کے مر جائیں۔ پہلی صورت اقدام کی ہے، دوسری تحفظ کی۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 3۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.