Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza ki haqeeqat.

Urdu · 3 min

روزے کی حقیقت: روزے کے لیے عربی لفظ "صوم" ہے، صوم کے معنی ہیں رکنا، یعنی obstinance۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ رکنا بھی زندگی میں ایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رکنا داخلی استحکام کی علامت ہے، اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلاشبہ دونوں ہی یکساں طور پر ضروری ہیں۔ مشہور صحابی خالد ابن الولید کو پیغمبر اسلام نے "سیف اللہ" کا لقب عطا کیا تھا؛ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا، بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب انہیں اس وقت دیا تھا جبکہ غزوۂ موتہ 8 ہجری کے موقع پر انہوں نے ایک طرفہ طور پر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آ گئے تھے۔

روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو تاکہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگا دو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر طور پر خارجی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے بولنے پر پابندی لگا لو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر بولنے والے بن سکو۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے مقام پر ٹھہر جاؤ، تاکہ اس کے بعد تم کامیاب پیش قدمی کے قابل بن سکو۔

روزے کا مہینہ مومن کے لیے تیاری کا مہینہ ہے۔ اپنی سوچ کے معیار کو بلند کرنا، اپنی عبادت میں تقویٰ کی سپرٹ بڑھانا، اپنی روحانیت میں اضافہ کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سحری کا تجربہ کر کے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کر کے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں ہونا، ایک مہینے کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا وغیرہ—یہی روزے کا مقصد ہے اور یہی روزے کی مقبولیت کا اصل معیار بھی۔ کتاب "صوم رمضان"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 4۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.