Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

روزہ اسلام کا ایک رکن

Urdu · 3 min

ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسِ شَهَادَتِي أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانِ». صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب الایمان۔ یعنی پانچ چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں۔

اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوۃ ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس حدیث میں پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ پہلی چیز کلمہ شہادت ہے، جو اسلام کے اعتقادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری چیز ہے نماز کو قائم کرنا۔ تیسری چیز ہے اپنے مال میں سے زکوۃ دینا۔ چوتھی چیز ہے حج ادا کرنا۔ اور پانچویں چیز ہے رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔

اسلام کو اگر ایک عمارت سے تشبیہ دی جائے تو اس عمارت کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ ان میں سے ایک روزہ ہے۔ روزے کی حقیقت صبر ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر صبر و تحمل کی استعداد پیدا کرنا ہے۔

صبر اسلامی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اسلام پر قائم نہیں رہ سکتا۔ نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر، شیطان کے بہکاوے کے مقابلے میں صبر، لوگوں کی ایذاؤں کے مقابلے میں صبر، جان و مال کے نقصان کے مقابلے میں صبر، ناخوشگوار تجربات کے مقابلے میں صبر، محرومی کے واقعات پر صبر، مصیبتوں کے مقابلے میں صبر وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔

ایسی حالت میں مثبت نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا صرف اس انسان کے لیے ممکن ہے جو صبر کے ساتھ دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہو۔ روزہ اسی صبر کی تربیت ہے۔ سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ناخوشگوار واقعات سے غیر متاثر رہ کر زندگی گزارے۔ وہ منفی تجربات کے باوجود مثبت سوچ، یعنی پازیٹو تھنکنگ، پر قائم رہے۔

صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے، اور روزہ اسی قسم کی حوصلہ مندانہ زندگی کی تربیت ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.