Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Iman aur ihtesab.

Urdu · 2 min

ایمان اور احتساب۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من صام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدم من ذنبه" "ومن قام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدم من ذنبه" "ومن قام ليلة القدر إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدم من ذنبه" صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب "من صام رمضان"۔ یعنی جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام لیل کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

اور جس نے شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اس حدیث میں رمضان کی تین عبادتوں کا ذکر ہے۔ تینوں کے ساتھ حدیث میں "ایمان" اور "احتساب" کے الفاظ آئے ہیں۔ ایمان سے مراد اللہ پر عارفانہ یقین ہے، اور احتساب یعنی anticipation of God's reward سے مراد خالص رضائے الہی کے حصول اور طلبِ اجر کی نیت سے عمل کرنا ہے۔

طلب الأجر من الله تعالى لا لقصد آخر من رياء أو نحوه دوسرے لفظوں میں یہ کہ روزہ اور دوسری عبادات کو صرف اس کے ظاہری فارم کے اعتبار سے نہ کرنا، بلکہ اس کی سچی روح یعنی spirit کے ساتھ اس کو انجام دینا۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ ادا کیا جانے والا یہ روزہ اور عبادت وہ ہے جس میں بندہ گویا کہ آنسوؤں سے وضو کرتا ہے۔ جس میں بھوک کا مطلب یہ ہوتا ہے: گویا کہ آدمی نے اپنے اور اللہ کے درمیان سے ہر دوسری چیز کو ہٹا دیا ہے۔ جس میں رکوع اور سجدہ خدا کی موجودگی یعنی presence of God کا تجربہ کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔

جس میں انسان الہامی الفاظ میں دعا کرنے لگتا ہے۔ جو شخص ان اعلیٰ ربانی کیفیات کے ساتھ روزہ اور عبادت کا تجربہ کرے، وہی وہ انسان ہے جو رمضان کے مہینے میں اس طرح نکلتا ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ کتاب "صوم رمضان" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 5۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.