Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

کامیابی کا راز

Urdu · 4 min read

ایک جاہل شخص ہندوستان سے عراق گیا۔ وہاں سے وہ دو سال کے بعد واپس آیا تو ایک آدمی نے پوچھا کہ کتنا پیسہ کما کر لائے۔ اس نے کہا کہ میں زیادہ تو نہیں کما سکا۔ پھر بھی کھاپی کر پچاس ہزار روپے لایا ہوں۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا کہ یہ بتائو کہپیسہ حاصل کرنے کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا 

بھائی صاحب، میں نے تو یہ جانا کہ من مارو گے تو منی پائو گے۔

منی ( دولت ) پانے کا راز یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ کام کرے ، اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے جدوجہد کرے۔ کیونکہ دولت حاصل کرنے کا مطلب دوسروں کی جیب سے دولت نکالنا ہے۔پھراگر آپ دوسروں کی رعایت نہ کریں گے تو دوسرا شخص آپ کو یہ موقع کیوں دے گا کہ آپ اس کے جیب کی دولت نکال کر اپنی جیب میں ڈالیں۔

دولت حاصل کرنے کا راز من کو مارنا ہے۔ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسرے کے ذوق پر چلناہے۔ یہی بات دوسرے مقاصد کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی بات دینی مقصد کے لیے بھی۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے درمیان کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنے سے باہر بہت سے حالات سے مقابلہ کر کے اپنا سفرجاریکرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں کوئی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ نہ ہو کہ آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر آئے، وہ اپنی من مانی کارروائی کرنے کے بجائے دوسرے افراد اور خارجی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کر لے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آدمی اپنے آپ کو کچل کردوسرے کو پاتا ہے۔ خارجی تقاضوں کا اعتراف کر کے وہ خارج سے اپنا اعتراف کر وانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے سے باہر کی دنیا کو کچھ دینے کے بعد ہی اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے اپنے آپ کے لیے کچھ پا سکے۔

ناموافق حالات

جانوروں کو جنگل کے ماحول میں ہر وقت اپنے دشمنوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ہر وقت چوکنے رہتے ہیں۔ یہ چوکنا رہنا ان کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی فطری صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ ان کی شخصیت ختم ہونے نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کو پالنے کے لیے جو بڑے بڑے پارک بنتے ہیں ان میں مصنوعی طور پر ان کے لیے خطرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلاً خرگوش کے پارک میں بلی ڈال دی جاتی ہے یا ہرن کے پارک میں ایک شیر یا ایک بھیڑیا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کی چوکسی( Alertness)باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطرہروقت زندہ اور سرگرم رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو دھیرے دھیرے وہ بجھ کر رہ جائیں گے۔

یہی بات انسانوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔یہ صلاحیتیں عام حالات میں سوئی رہتی ہیں۔ وہ بیدار اس وقت ہوتی ہیں جب ان کو جھٹکا لگے۔ جب وہ عمل میں آئیں۔ کسی بھی مقام پر اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جن خاندانوں میں آسودگی کے حالات آجاتے ہیں اس كے افراد بےحس اور کم عقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن خاندانوں کو مشکل حالات گھیرےہوئے ہوں ان کے افراد میں ہر قسم کی ذہنی اور عملی صلاحیتیں زیادہ اجا گر ہوتی ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ اور مدینہ کے مسلمان اس سے کہیں زیادہ عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا تھے۔ اگر عدم تحفظ کوئی ’’ برائی ‘‘ ہوتی تو یقیناً اللہ کا رسول اوراس کے اصحاب کہیں زیادہ اس کے مستحق تھے کہ اللہ انھیں اس برائی سے دور رکھے۔ مگر اللہ نے ایسانہیں کیا۔ بلکہ ان کو مسلسل عدم تحفظ کی صورت حال میں رکھا۔ ان کو اپنی زندگی میں کبھی چین اور آسودگی نہ مل سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے جس ڈھنگ پر بنایا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں دبنے سے ابھار پیدا ہو۔ مشکلوں کے مدرسہ میں انسان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ غیرمحفوظ حالات کے اندر مستعدی کا ظہور ہو

تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں جو حالات کے دبائو میں مبتلا تھے۔ قدرت کا یہی قانون افراد کے لیے ہے اور یہی قوموں کے لیے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.