Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

بڑا کام

Urdu · 6 min read

ولیم بلیک ( William Blake) نے کہا ہے کہ عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب کہ انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔ کوئی عظیم کام سڑک پر دھکّم دھکّاکرنے سے نہیں ہوتا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Great things are done when men and mountains meet. This is not done by Jostling in the street.

ولیم بلیک کی یہ بات صدفی صد درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے کام کے لیے بڑا عمل درکار ہوتا ہے۔ پہاڑوں کی کٹھن چڑھائی کے بعد آدمی چوٹی پر پہنچتا ہے۔ سڑکوں پر شوروغل کرنے یا جلسوں میں الفاظ کے دریا بہانے سے کوئی بڑا مقصد کبھی حاصل نہیں ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقی معنوں میں کوئی بڑاانجام پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ حالات کو انتہائی گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے۔ اپنے وسائل اور خارجی امکانات کی پوری رعایت کرتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔ سفر شروع کیا جائے تو اس حقیقت کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جائے کہ راستہ میں دوسرے بہت سے مسافر بھی موجود د ہیں۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ہر وہ قربانی دے جو اس کا مقصد اس سے تقاضا کرے۔ کہیں وہ مال کی قربانی دے اور کہیں وقت کی۔ کہیں وہ رائے کی قربانی دے اور کہیں جذبات کی۔ کہیں وہ دوسروں سے نمٹے اور کہیں وہ خود اپنا احتساب کرے۔ کہیں وہ چلے اور کہیں شدید ہیجان کے باوجود رُک جائے۔

پہاڑ کی چڑھائی جیسی محنت کیے بغیر کوئی بڑا کام انجام نہیں پاتا۔ ہر بڑا کام بڑی جدوجہد چاہتا ہے۔ ایسا کام جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی اپنے مثبت اثرات باقی رکھے۔ ایسا کام جو مستقبل کی نقشہ گری کرنے والا ہو، ایسا کام جو تاریخ کے رُخ کو موڑ دے ، بے پناہ محنت چاہتا ہے۔ ایسے کام کے لیے اتھاہ دانش مندی درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا کام وہی لوگ کرپاتے ہیں جو فی الواقع پہاڑ کی چڑھائی جیسے عمل کا ثبوت دیں۔ اس کے برعکس جو لوگ سڑکوں پر شوروغل کرنے کو کام سمجھیں وہ صرف اجتماعی کثافت میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کو کوئی حقیقی تحفہ دینے کی توفیق نہیں پاتے۔

مشکلیں ہیرو بنا دیتی ہیں

اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکا)میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے آفات وحوادث کی تحقیق کا مرکز (Disaster Research Centre) یہ ادارہ 1963میں قائم ہوا۔ اب تک اس نے ایک سو سے زیادہ تعداد میں مختلف قسم کی بڑی بڑی انسانی آفتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے پایا کہ غیرمعمولی مشکل مواقع پر انسان کے اندر غیر معمولی طور پر کچھ نئی قوتیں ابھر آتی ہیں جو اس کو حوادث کا شکار ہونے سے بچاتی ہیں۔ مثلاً 1961میں ٹکساس میں زبردست قسم کا ساحلی طوفان آیا مگر اس طوفان میںاس علاقہ کے صرف آدھے ملین لوگوں نے اپنا مکان چھوڑا۔ 50 فی صد سے زیادہ آبادی اپنے مکانوں میں جمی رہی۔ جب کہ اس طوفان کے آنے کی اطلاع چار دن پہلے دی جا چکی تھی۔ 1971 میں کیلیفورنیاکے زلزلہ میں ایک بہت بڑا ڈیم کمزور ہو گیاجس سے 70 ہزار آبادی کے لیے سنگین خطرہ لاحق ہو گیا۔ مگر ایسے نازک حالات میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد صرف 7 فی صد تھی۔

تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ حادثات کا شکار ہو جانے کے بعد بھی اکثر لوگ پُرامید رہتے ہیں۔ ٹیکساس کے دو شہروں میں ہولناک طوفان سے تباہ ہونے والے لوگوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا۔ 10فی صد سے بھی کم لوگوں نے مستقبل کے بارے میں کسی اندیشہ کا اظہار کیا۔ بقیہ تمام لوگ تباہی کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید تھے۔ حوادث کے بارے میں اپنی لمبی تحقیق کا خلاصہ مذکورہ ادارہ کی رپورٹ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے — واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان مصیبتوں کے مقابلہ میںحیرت انگیز طور پر قابو یافتہ اور لچکدار واقع ہوئے ہیں۔ مصائب کے وقت انسان جس رویہ کا مظاہر ہ کرتے ہیں ، اس کو دہشت اور گھبراہٹ کے بجائے ہیروازم کے لفظ سے تعبیر کرنا زیادہ صحیح ہو گا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

In conclusion, the reality of events suggests that human beings are amazingly controlled and resilient in the face of adversity. Perhaps heroism -not panic or shock - is the right word to describe their most common behaviour in time of disaster.

انسان کو اس کے بنانے والے نے حیرت انگیز طور پر بے شمار صلاحیتیں عطافرمائی ہیں۔ اسی میں سے ایک صلاحیت یہ ہے کہ عین بربادی کے کھنڈر میں کھڑا ہو کر بھی وہ ختم نہیں ہوتابلکہ اپنی نئی تعمیر کا منصوبہ سوچتا ہے اور بہت جلد اپنے نقصانات کی تلافی کر لیتا ہے۔ انسان کے اندر یہ فطری امکان ہم کو بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔ کوئی فرد یا قوم اگر کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کو ماتم اور شکایت میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرنا چاهيے۔بلکہ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لا کر اپنے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے۔عین ممکن ہے کہ حالات نے جہاں آپ کی کہانی ختم کر دینی چاہی تھی وہیں سے آپ کی زندگی کے ایک نئے شان دار باب کا آغاز ہو جائے۔

قربانی

درخت کیا ہے۔ ایک بیج کی قربانی۔ ایک بیج جب اپنے کو فنا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک سر سبز وشاداب درخت زمین پر کھڑا ہو۔

اینٹوں سے اگر آپ پوچھیں کہ مکان کس طرح بنتا ہے تو وہ زبان حال سے یہ کہیں گی کہ کچھ اینٹیں جب اس کے لیے تیار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے زمین میں دفن کر دیں ، اس کے بعد وہ چیز ابھرتی ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔

یہی حال انسانی زندگی کی تعمیر کا ہے۔ انسانیت کے مستقبل کی تعمیر اس وقت ممکن ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے کو بےمستقبل دیکھنے پر راضی ہو جائیں۔ ملت کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ جانتے بوجھتے اپنے کو بے ترقی کر لیں— قربانی کے ذریعہ تعمیر،یہ قدرت کا ایک عالمگیر قانون ہے اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ قدرت کا یہی اصول مادی دنیا کے لیے بھی ہے اور قدرت کا یہی اصول انسانی دنیا کے لیے بھی۔

عمارت میں ایک اس کا گنبد ہوتا ہے، اور ایک اس کی بنیاد۔ گنبد ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے مگر بنیاد کسی کودکھائی نہیں دیتی۔ کیوں کہ وہ زمین کے اندر دفن رہتی ہے۔ مگر یہی نہ دکھائی دینے والی بنیاد ہے جس پر پوری عمارت اور اس کا گنبد کھڑا ہوتا ہے۔ قومی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی قومی تعمیر میں اس کی بنیاد بننے پر راضی ہوجائے۔

قربانی یہ نہیں ہے کہ آدمی جوش میں آکر لڑ جائے اور اپنی جان دے دے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی ایک نتیجہ خیز عمل کے غیرمشہور حصہ میں اپنے کو دفن کر دے۔ وہ ایسے کام میں اپنی کوشش صرف کرے جس میں دولت یا شہرت کی شکل میں کوئی قیمت ملنے والی نہ ہو۔ جو مستقبل کے لیے عمل کرے،نہ کہ حال کے لیے۔

کسی قوم کی ترقی اور کامیابی کا انحصار ہمیشہ اسی قسم کے افراد پر ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کسی قوم کے مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔ وہ اپنے کو دفن کر کے قوم کے لیے زندگی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content