Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

قربانی

Urdu · 2 min read

ٹوٹنے کے بعد

مادہ کی آخری اکائی ایٹم ہے جس طرح سماج کی آخری اکائی فرد ہوتا ہے۔ اگر ہم ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم اس کو فنا نہیں کرتے۔ بلکہ اس کو ایک نئی اور زیادہ بڑی قوت میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کا نام جوہری توانائی((Atomic energyہے۔ مادہ منجمد توانائی ہے اور توانائی منتشر مادہ۔ مادہ اپنی ابتدائی شکل میں جتنی قوت رکھتا ہے ، اس کے مقابلہ میں اس وقت اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے جب کہ اس کے ایٹموں کو توڑ کر جو ہری توانائی میں تبدیل کر دیا گیا ہو۔

معمولی مادی قوت اور جوہری قوت میں کیا فرق ہے ، اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ دوٹن کوئلہ ایک ریل گاڑی کو ستر میل تک لے جاتا ہے اور نو گیلن کرو سین ایک موٹر کو پانچ سو میل تک دوڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں بارہ پونڈ یورینیم جب جوہری توانائی میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ایک تیز رفتار راکٹ کو دو لاکھ چالیس ہزار میل کا سفر طے کر ا سکے۔

ایسا ہی معاملہ اس سماجی اکائی کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں۔ انسان جب ’’ ٹوٹتا ہے ‘‘ تو وہ بے پناہ حد تک وسیع ہو جاتا ہے۔ جس طرح مادہ ٹوٹنے سے فنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی قوت بڑھا لیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی ہستی جب ’’ شکست ‘‘ سے دو چارہوتی ہے تو وہ ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی شدید تر طاقت حاصل کر لیتی ہے۔

انسان پر شکست کا حادثہ گزرنا اس کے تمام اندرونی تاروں کو چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے بعد اس کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی طاقتیں اپنی ناکامی کی تلافی کے لیے حرکت میںآجاتی ہیں۔ اس کے عزم وارادہ کو مہمیز لگتی ہے۔ اس کے اندر ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کا وہ بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے جو سیل رواں کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، حتی کہ پتھریلی چٹانوں کے بس میں بھی نہیں۔

مادہ کے اندر ایٹمی انفجار (Atomic explosion) اس کو بہت زیادہ طاقت ور بنا دیتا ہے۔ اسی طرح انسانی شخصیت کے اندر بھی بے پناہ امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ یہ امکانات اس وقت بروئےکار آتے ہیں جب کہ انسانی شخصیت کسی انفجار سے دوچار ہو جائے۔ اس پر کوئی ایسا حادثہ گزرے جو اس کی شخصیت کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ جو اس کے تاروں کو چھیڑ کر اس کی سازحیات کو بجا دے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.