Maulana Wahiduddin Khan
45 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

دو سو سال

Urdu · 45 min read

1782 میں ایک انگریز اڈنبرا سے گلیسگو آیا۔ اس کے پاس دو سو پونڈ تھے اور ایک لکڑی کا پریس۔ اس نے اس کے ذریعہ ایک اخبارجاری کیا۔ ابتداء ً اس کا نام تھا گلیسگو ایڈورٹائزر (Glasgow Advertiser) ۔یہی وہ اخبار ہے جو اب) (Glasgow Heraldکے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کی موجودہ اشاعت روزانہ چار لاکھ ہے۔ اس کے اجراء پر اب دو صدیاں گزر چکی ہیں۔

اس کا بانی جان ميننز ( John Mennons) ہر قسم کے نا موافق حالات سے دو چار تھا۔ البتہ ایک مبصر کے الفاظ میں ایک چیز اس کے پاس افراط کے ساتھ موجود تھی۔ وہ تھا اس کا اتھاہ جوش (Limitless enthusiasm)۔ اتھا ہ جوش اس کے لیے ہر کمی کا بدل بن گیا۔ اس نے ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھی جو دو سو سال سے مسلسل جاری ہے۔ درمیان میں شرکاء کے درمیان زبردست اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر وہ حکمت اور صبر کے ساتھ طے کر لیے گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو اخبار دو سو سال پہلے لکڑی کے پریس میں ہاتھ کے عمل سے چھاپا گیا تھا وہ آج تمام کا تمام آٹو میٹک مشینوں کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کمپوز نہیں کیے جاتے اور نہ ڈھالے جاتے۔ بلکہ وہ لیزر شعاعوں کے ذریعہ پلیٹ پر منعکس ہوتے ہیں۔ کاغذ اپنے آپ چھپ کر نکلتا ہے۔ وہ اپنے آپ مڑتا ہے۔ اس کے بعد اس کے بنڈل بنتے ہیں۔ اور بنڈ ل کے اوپر پولی تھین لپیٹا جاتا ہے۔ ا و ر پھر ڈسپیچ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ سب کمپیوٹر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا 22 جنوری 1984)

other sourceWords of another person or source

مذکورہ انگریزی اخبارچوں کہ برابر دو سو سال سے جاری ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہوا کہ اس دوران میں ہونے والی تمام طباعتی اور اشاعتی ترقیاں اس کی تاریخ کا جزء بن جائیں۔ وہ اس کی ترقی کے لیے زینہ بنتی چلی جائیں۔ اگر بالفرض وہ ابتدائی 25 سال یا 50 سال میں بند ہو گیا ہوتا تو دنیا میں ہر قسم کی ترقیاں ہوتیں مگر مذکورہ اخبار ان ترقیوں میں حصہ دار بننے کے لیے موجود نہ ہوتا۔

موجودہ دنیا میں کوئی کام ’’ دو دن ‘‘میں انجام نہیں پاتا۔ اس کو کرنے کے لیے ’’ دوسو سال ‘‘ درکار ہوتے ہیں۔ مگر دو سو سالہ منصوبہ کی تکمیل کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ جوش عمل اور استقلال۔ ان دو چیزوں کے بغیر یہاں کوئی بڑی ترقی ممکن نہیں۔

ہار مان لینا

امریکا کے ایک شخص نے 1831ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ 1832 میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ 1834 میں اس نے دوبارہ تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں ناکام رہا۔

1841 میں اس کے اعصاب جو اب دے گئے۔ 1843 میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگرس کی ممبری کے لیے نامز کر دے گی۔ مگر آخروقت میں اس کی امید پوری نہ ہو سکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ 1855 میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لیے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔ 1858 میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔

یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (1809-65) تھا جو 1860 میں امریکا کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے امریکا کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکا کا معمار سمجھا جاتا ہے۔

ابراہام لنکن کو امریکا کی قومی اور سیاسی تاریخ میں اتنا معزز نام کیسے ملا اور وہ اس اونچے مقام تک کس طرح پہنچا، ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ— وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He knew how to accept defeat.

حقیقت پسندی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے اور ہار ماننا حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ ہار ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کر لیں کہ آپ دوسروں سے آگے نہیں ہیں، بلکہ دوسروں سے پیچھے ہیں۔ بالفاظ دیگر، آپ جہاں فی الواقع ہیں وہیں نظری طور پر اپنے آپ کو کھڑا مان لیں۔ ہار ماننے کے بعد آدمی فوراً اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کر سکے۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ فی الواقع ہیں،نہ کہ وہاں سے جہاں ابھی آپ پہنچے ہی نہیں۔

حقیقت پسندی

باغ لگانے کا کام ’’ باغ کانفرنس ‘‘ سے شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایک ایک پودے کو وہ حالات فراہم کیے جائیں جن میں وہ اپنی ذاتی اپجائو کی صلاحیت کو بروئےکار لائے اور درخت کی صورت میں ترقی کر کے باغ کے مجموعہ کا جزء بن جائے۔

یہی طریقہ ملت کی تعمیر کا بھی ہے۔ ملت کی تعمیر دراصل افراد کی تعمیر کا نام ہے۔ ایک ایک فرد کو با شعور بنانا، ایک ایک فرد کی چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو حقیقی انسان کے درجہ پر پہنچانا، ایک ایک فرد کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ دوسرے بھائیوں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنے ترقیاتی امکانات کو ظہور میں لانے کی جدوجہد کرے۔ اسی قسم کے عمل کا نام ملت کی تعمیر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بے فائدہ شوروغل ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کے لیے بے روک ٹوک مواقع کھلے ہوئے ہوں اور میدان میں اس کا کوئی حریف موجود نہ ہو۔ ایسا نہ کبھی اس زمین پر کسی کے لیے ہوا اور نہ آج کسی کے لیے ایسا ہو سکتا ہے۔ زندگی حقیقۃ ً رکاوٹوں کے درمیان سے اپنے لیے راستہ نکالنے کا نام ہے،نہ کہ رکاوٹوں کی غیر موجودگی میں بے خوف وخطر دوڑنے کا۔

تاریخ کا مطالعہ جس طرح یہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا آغاز ہمیشہ رکاوٹوں اور مشکلوں کے درمیان کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ رکاوٹیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں ، ہمیشہ آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا ہوتا ہے جس سے چل کر وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔ مگر یہ راستہ انھیں لوگوں کے لیے ہے جو راستہ کے بند مقامات پر سر نہ ٹکرائیں بلکہ دوسرے گوشوں میں اپنے لیے کوئی ’’ درہ ‘‘ تلاش کر کے آگے بڑھ جائیں۔

پھر تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ حادثہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو ، اس کی تلافی کی صورت بھی انسان کے لیے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی آفت یا حادثہ انسان کے لیے اس امکان کو ختم نہیں کرتا کہ وہ دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ کے ساتھ اپنے عمل کا آغاز کرے اور کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ نئے انداز سے حاصل کر لے۔

جو کچھ کسی دوسرے انسان کے پاس ہے وہی آپ بھی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس راز کو جان لیں کہ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے حقیقت پسندانہ جدوجہد سے ملتا ہے،نہ کہ تمنائوں اور خوش خیالیوں سے۔

دوسروں کا لحاظ

کیپ بیل راجر س پولٹری کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں۔ پولٹری ( مرغ بانی ) پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے  بڑے پیمانہ کی کامیاب پولٹری فارمنگ بڑی حد تک ایک مزاجی کیفیت کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص جو چڑیوں اور جانوروں کے لیے شفقت کا جذبہ نہ رکھتا ہو وہ اس کا م میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پولٹری فارمنگ کے لیے سخت اور صبر آزما قسم کا روٹین کا کام (Routine work) بے حد ضروری ہے۔ یہ کام ان لوگوں کو بہت اکتا دینے والا معلوم ہو گا جو ایک ہی کام کو ہر روز کرنے کے عادی نہ ہو ، اور وہ بھی بغیر اس امید کے کبھی اس میں انقطاع یا تعطیل کا دن آسکتا ہے۔

Success is a matter of cooled decisions, without constant hovering and changing of the mind, acute observation, initiative, and unremitting attention to a vast amount of petty details.

A. C. Campbell Rogers,

Profitable Poultry Keeping in India and the East,

D. B Taraporevala Sons. Co. Bombay 1959, p. 223

کامیابی ایک ٹھنڈے فیصلوں کا معاملہ ہے ، بغیر اس کے کہ آدمی اِدھر اُدھر مڑے یا ذہن کو بدلے۔ گہرائی کے ساتھ مشاہدہ ، اقدام ، اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی بہت بڑی تعداد پر مسلسل اور غیر منقطع توجہ۔

مرغبانی کے ماہر نے جو بات مرغبانی کے لیے کہی ہے وہی عام زندگی کے لیے بھی صحیح ہے۔ جس طرح مرغیاں پالنے والا شخص صرف اپنی مرضی پر نہیں چلتا بلکہ وہ مرغیوں کیعادات اوران کی ضروریات کا لحاظ کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں ہمیں دوسرے انسانوں کے مزاج اور ان کے مفادات کی رعایت کرنا ہے۔ دوسروں کی عزت کر کے ہی ہم دوسروں کے درمیان عزت پاسکتے ہیں۔ دوسروں کے لیے مفید بن کر ہی ہم دوسروں کو اپنے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ اس دنیا میں ذاتی کامیابی دراصل دوسروں کی کامیابی میں مدد گار بننے کا نام ہے ، جو لوگ صرف اپنے کو جانیں اور دوسروں کو نہ جانیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

موقع صرف ایک بار

کالج کے ایک پرانے استاد کے ایک جملہ نے مجھے بہت متاثر کیا— ’’ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ‘‘ انھوں نے کہا۔ وہ اپنی زندگی پر تبصرہ کر رہے تھے ’’ میں بی ایس سی کر کے ملازمت میں لگ گیا تھا۔ ایم ایس سی نہیں کیا۔ اب کتنے اچھے اچھے چانس میرے سامنے آتے ہیں۔ مگرمیں ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ صرف اس لیے کہ میرے پاس ماسٹر ڈگری نہیں۔ اگر آپ کے پاس اعلیٰ لیاقت نہیں ہے تو آپ اعلیٰ مواقع سے فائدہ اٹھانے سے بھی محروم رہیں گے ‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تبصرہ ہمارے سماج کے تقریباً 99 فی صد لوگوں پر صادق آتا ہے۔ ابتدائی عمر انسان کے لیے تیاری کی عمر ہے۔ مگر بیشتر افراد اس عمر کو پوری طرح استعمال میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے بہترین وقت کو سستے مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور کام کرنے کا وقت آجاتا ہے۔ اب وہ مجبور ہوتے ہیں کہ کمتر تیاری کے ساتھ عملی زندگی کے میدان میں داخل ہو جائیں۔ وہ چاہنے کے باوجود زیادہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ان کو ساری عمر اس طرح گزارنی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں ان کی صلاحیتوں کے لیے جو آخری امکان مقدر تھا ، اس سے بہت کم امکان تک وہ پہنچ پاتے ہیں۔ وہ محرومی اور ناکامی کے احساس کے تحت زندگی گزارتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔

اگر آپ کمتر تیاری کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہیں تو اس دنیا میں آپ اپنا بھرپور حصہ نہیں پا سکتے ، اور جو ایک بار محروم رہا وہ گویا ہمیشہ کے لیے محروم رہا۔ کیونکه— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ، بار بار نہیں ملتی۔

پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے۔ مگر پتھر اس شخص کے لیے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لیے اس دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد واحتجاج کرتے رہیں۔

ماحول سے امید نہ رکھیے بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے ، آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہو گی۔ ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالائقی کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ مطلوبہ تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے۔

جھوٹی بڑائی

ایک صاحب کا قصہ ہے۔ ان کے دادا کا میاب تاجر تھے۔ مگر بعد کو ان کی تجارت ختم ہو گئی۔ والد اور والدہ کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ مذکورہ صاحب کے حصہ میں باپ دادا کا مال تو نہ آیا البتہ یہ احسا س انھیں وراثت میں ملا کہ ’’میرے باپ دادا بڑے آدمی تھے ‘‘۔

وہ ا بھی نوجوان تھے کہ انھیں معلوم ہوا کہ قصبہ کے ڈاک خانہ میں پوسٹ مین کی جگہ خالی ہے۔ وہ درخواست دے کر پوسٹ مین ہو گئے۔ لوگوں نے انھیں مشورہ دیا کہ تمہاری تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی ہے ، تم کوشش کر کے ہائی اسکول کر ڈالو۔ اس کے بعد تم آسانی سے مقامی ڈاک خانہ میں پوسٹ ماسٹر ہو جائو گے۔ اسی کے ساتھ کچھ گھر کی کھیتی ہے۔ دونوں کو ملا کر آسانی سے تمہاری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ مگر ان کے جھوٹے فخر کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کسی کا مشورہ مانیں۔ مزید یہ ہوا کہ جھوٹی بڑائی کے احساس کی بنا پر اکثر وہ ڈاک خانہ کے کارکنوں سے لڑ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک روز انھوں نے پوسٹ ماسٹر سے جھگڑا کر لیا اور کام چھوڑ کر چلے آئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پوسٹ آفس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ بے کار پڑے رہے۔ نہ کوئی دوسرا کام کیا اور نہ تعلیم حاصل کی۔ ان کا مشغلہ صرف یہ رہ گیا کہ اپنی فرضی بڑائی کے تذکرے کریں اور اس کے ذریعہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے رہیں۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد کھیتی سے کام چلتا رہاجس کو بٹائی پر دیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے چھ بچے ہو گئے۔ اب مسائل نے پریشان کرنا شروع کیا۔ تاہم ان کی جھوٹی بڑائی کا احساس دوبارہ اس میں رکاوٹ بنا رہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں۔ وہ اپنے رشتہ داروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان سے لڑنے لگے۔ مگر اس غیرحقیقت پسندانہ رویہ نے صرف ان کی بربادی میں اضافہ کیا یہاں تک کہ ان کا ذہنی توازن خراب ہو گیا۔

موجودہ دنیا حقیقتوں کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقت سے مطابقت کر کے آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ حقیقت سے مطابقت نہ کریں تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ خدا کی اس دنیا میں جھوٹی بڑائی سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ یہاں جھوٹی بڑائی سے زیادہ تباہ کن کوئی ذہنیت نہیں۔

برداشت

صبر ایک مثبت عمل

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبر ایک منفی عمل ہے مگر یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک مثبت عمل ہے بلکہ وہ مثبت عمل کی بنیاد ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر اس دنیا میں کوئی مثبت عمل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اطراف عرب کے رئیسوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔ آپ کا یہ عمل واضح طور پر ایک مثبت عمل تھا۔ مگر اس مثبت عمل کی قیمت صبر تھی۔ اس سے پہلے آپ کو صبر کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ حالات پیدا ہوں جن میں مذکورہ قسم کا مثبت عمل انجام دیا جا سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک معلوم بات ہے کہ رئیسوں اور بادشاہوں کے نام یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کیے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام صلح حدیبیہ سے پہلے بھی ہو سکتا تھا۔ پھر آپ نے اس کو صلح حدیبیہ کے بعد کیوں انجام دیا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے آپ جنگ وقتال کے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ صبح وشام دشمنوں کے حملہ کاخطرہ لگا رہتا تھا اورآپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی ساری توجہ دفاعی کاموں میں خرچ ہو رہی تھی۔ ایسے غیر معتدل حالات میں حکمرانوں کے نام دعوتی مہم کا منصوبہ بنانا اور اس کی تعمیل کرنا عملاً سخت دشوار تھا۔

صلح حدیبیہ حقیقۃً مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No war pact) تھا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد حالات بالکل معتدل ہو گئے۔ اس کے بعد فوراً آپ نے حکمرانوں کے نام دعوت نامے بھیجنے کامنصوبہ بنایا اور اس کی تعمیل فرمائی۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر کے بغیر کوئی مثبت عمل ممکن نہیں۔ اگر آپ کو داعی بننا ہے تو مدعو کے ساتھ تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا ہو گا۔ اگر آپ کو متواضع اخلاق اختیار کرنا ہے تو اپنے سینہ کو تکبر کا قبرستان بنانا ہو گا۔ اگر آپ کو لوگوں کا خیر خواہ بننا ہے تو اپنے اندر اٹھنے والے حسد کے جذبات کو دبانا ہو گا۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر پیدا ہونے والے انتقامی جذبات کو ذبح کرنا ہو گا۔ اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جو صبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان کا حصول ممکن نہیں۔

عملی حل

ایک عالم نفسیات کا قول ہے کہ جب کسی کی اَنا کو مَس کیا جاتا ہے تو وہ برتر اَنا بن جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ہے فساد 

other sourceWords of another person or source

When one's ego is touched, it turns into super-ego, and the result is break-down.

عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخر زمانہ میں اپنے پوتے ابو جعفر کو ایک لمبی نصیحت کی۔ اس نصیحت کا ایک حصہ صبر سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

من لا یرضی بالقلیل مما یاتی بہ السفیہ یرضی بالکثیر ( المعجم الكبير للطبرانی، حديث نمبر 2258)يعني جو شخص نا دان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہو گا اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان دونوں اقوال میں بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ ایک ہی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے شر سے بچنے کی ایک ہی یقینی تدبیر ہے۔ اور یہ کہ اپنے آپ کو لوگوں کو شر سے دور رکھا جائے۔

ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر ’’ انا ‘‘ موجود ہے۔ یہ انا عام حالت میں سویا ہوا رہتا ہے اس کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صورت صرف یہی ہے کہ اس کو سو یا رہنے دیا جائے۔ اگر کسی کارروائی سے اس انا کو چھیڑ دیا گیا تو وہ سانپ کی طرح اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا اور پھر وہ ہر وہ ممکن فساد برپا کرے گا جو اس کے بس میں ہو۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی نادان یا کسی فسادی آدمی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ اکثر حالات میں اس کا بہترین حل یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے۔ کیونکہ اگر ابتدائی معمولی تکلیف کو برداشت نہیں کیا گیا اور اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تو فریق ثانی اور زیادہ بھڑک اٹھے گا۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ جس آدمی نے کنکری کی چوٹ برداشت نہیں کی تھی وہ مجبور کر دیا جائے گا کہ پتھروں کی بارش کو برداشت کرے۔

دور کا راستہ

ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیلی فون کا نظام نہایت معیاری ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس غیر ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ ہر جگہ ٹیلی فون ہے مگر اس کا نظام درست نہیں۔ مثلاً ہندوستان میں اگر آپ مقامی ٹیلی فون کریں یا ایک شہر سے دوسرے شہر بات کریں تو طرح طرح کی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر آپ دہلی سے لندن کے کسی نمبر پر ڈائل کریں تو آپ کو فوراً لائن مل جائے گی اور نہایت صاف طور پر گفتگوہو سکے گی۔

اس سلسلہ میں افریقہ کا ایک لطیفہ اخبار میں نظر سے گزرا۔ افریقہ کے ایک ملک میں کسی عورت نے گوشت کی مقامی دکان پر ٹیلی فون کرنا چاہا۔ کافی دیر تک کوشش کرنے کے باوجود اس کو نمبر نہیں ملا۔ اس عورت کی ماں لندن میں رہتی تھی۔ اس کے بعد اس نے لندن کے ٹیلی فون پر اپنی ماں کا نمبر ڈائل کیا۔ یہ نمبر اس کو فوراً مل گیا۔ اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ عورت نے ضمناً کہا کہ وہ گوشت منگوانے کے لیے ایک گھنٹہ سے گوشت کی دکان پر ٹیلی فون ملانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر رابط قائم نہ ہو سکا۔ اس کی ماں نے کہا کہ اچھا میں یہاں سے ملاتی ہوں۔

چنانچہ اس کی ماں نے لندن سے افریقہ کی گوشت کی دکان کا ٹیلی فون نمبر ملایا۔ نمبر بلاتا خیر مل گیا۔ افریقہ کی گوشت کی دکان کو جو پیغام مقامی ٹیلی فون سے نہیں پہنچ سکا تھا۔ وہ لندن کے ٹیلی فون سے پہنچ گیا۔

یہ لطیفہ زندگی کی ایک حقیقت کو بتا رہا ہے۔ يه حقیقت ہے كه کبھی دور کا راستہ عملاً زیادہ قریب ہوتا ہے۔

بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ منزل پر پہنچنے کے لیے مختصر راستہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو بظاہر جلد نتیجہ کو سامنے لانے والا ہو۔ مگر منزل تک جلد پہنچنے کے لیے صرف ’’ راستہ ‘‘ کو دیکھنا کافی نہیں ہے بلکہ ’’ سواری ‘‘ کو دیکھنا بھی ضروری ہے ، نتیجہ کو جلد حاصل کرنے کا تعلق صرف ظاہری اسباب سے نہیں ہے بلکہ بہت سے ان دوسرے اسباب سے ہے جو دکھائی نہیں دیتے۔

کبھی دور کا راستہ زیادہ قریب ہوتا ہے اور قریب کا راستہ زیادہ دور بن جاتا ہے۔

اندر اور باہرکا فرق

اپا لو 8 کے تین خلائی مسافر 27 دسمبر 1968 کو بحر الکاہل میں اترے تھے۔ زمین سے چاند تک کا سفر کرنے میں ان امریکی خلا بازوں کو چھ دن تین گھنٹے لگے اور انھوں نے تقریباً پانچ لاکھ 47ہزار میل کا سفر طے کیا۔ ان کے سفر کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ تھا جب کہ ان کا چھ ٹن وزنی جہاز ساٹھ میل کے فاصلہ سے چاند کا چکر لگا کر دوبارہ زمین کے قریب واپس پہنچا۔

امریکی راکٹ جب زمین کی بیرونی فضا میں داخل ہوا تو زمین کی کشش کی وجہ سے اس کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ کر 39 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی۔ چاند کے مقابلہ میں اس کو سات گنا زیادہ قوت کشش کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا تھا۔ اس غیر معمولی رفتار کی وجہ سے خلائی جہاز انتہائی خوفناک قسم کی گرمی سے دو چار ہوا۔کرهٔ فضا میں داخل ہوتے ہی خلائی جہاز ہوا کی رگڑ سے گرم ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ آگ کے انگار ے کی طرح سرخ ہو گیا۔ اس وقت خلائی جہاز کے بیرونی حصہ کی تپش تین ہزار تین سو سنٹی گریڈ (6 ہزار ڈگری فارن ہائٹ ) تھی ، جب کہ صرف سو ڈگری کی حرارت پر پانی ابلنے لگتا ہے۔

تین ہزار تین سو ڈگری سنٹی گریڈ کی حرارت میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر اس غیر معمولی تپش میں تینوں خلائی مسافر کس طرح زندہ سلامت رہ کر واپس آگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس خلائی جہاز کے اندر وہ بند تھے ، وہ خاص طور پر اس ڈھنگ سے بنایا گیا تھا کہ وہ باہر کی شدت کو اند ر نہ پہنچنے دے۔ چنانچہ سخت ترین گرمی کے باوجود اس کے اندر کا درجہ حرارت 21 ڈگری سنٹی گریڈ سے آگے نہیں بڑھا۔ باہر کا درجہ حرارت تین ہزار تین سو اور اندر کا درجہ حرارت صرف 21۔

خلائی سفر کا یہ واقعہ اپنے اندر بڑا سبق رکھتا ہے۔ انسانی زندگی میں بھی بار بار ایسے سخت مرحلے آتے ہیں جب بیرونی ماحول انتہائی طور پر آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت حالات کی شدت سے بچنے کی صرف ایک سبیل ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اندرونی جذبات کو دبائیں اور اپنے احساسات پر قابو رکھتے ہوئے اس کو معتدل حالت پر قائم رکھیں۔ اگر ایسا ہو کہ آپ کے ’’ اندر ‘‘بھی شدت کا وہی حال ہو جائے جو آپ کے ’’باہر ‘‘ ہے تو آپ اپنے کو تباہ کر لیں گے۔ اس کے برعکس اگر اندر کی شدت باہر سے غیرمتاثر رہ کر اعتدال کی حالت پر قائم رہے تو آپ باہر کی ’’ آگ ‘‘ سے محفوظ رہیں گے اور آخر سلامتی کے ساتھ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔

زندگی کا راز یہ ہے کہ آپ کے باہر اگر آپ کے خلاف نفرت اور بغض پایا جاتا ہو تو آپ اس نفرت اور بغض کو اپنے اندر داخل نہ کریں۔ بلکہ اپنے کو قابو میں رکھ کر اپنے اندر محبت اور درگزر کے جذبات کی پرورش کریں۔ باہر کی دنیا آپ کے ساتھ برائی کا معاملہ کرے تو آپ بھلائی کی صورت میں اس کا جواب دیں۔ یہی طریقہ زندگی اور کامیابی کا طریقہ ہے۔ اگر آپ بھی ویسے ہی ہو گئے جیسا ماحول تھا تو یقیناً آپ مقابلہ کی اس دنیامیں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

بے صبری کا نتیجہ

15 جنوری 1986 کا واقعہ ہے۔ انڈین ائیرلائنز کا ایک جہاز ( فلائٹ نمبر 406 ) بمبئی سے دہلی کے لیے اڑا۔ مگر صرف پندرہ منٹ بعد وہ واپس ہوا اور دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ جہاز کسی ٹیکنیکل سبب سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا تھا۔ جہاز جب اوپر فضا میں پہنچا تو اس کے ایک مسافر نے کیپٹن بھٹنا گر کے نام ایک نوٹ بھیجا کہ وہ بتائے کہ جہاز کیوں آدھ گھنٹہ لیٹ روانہ ہو ا ہے۔

کیپٹن نے مذکورہ مسافر کو کاک پٹ میں بلایا اور وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ لیٹ ہونے کی وجہ کیا تھی۔ مسافر اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا اور کیپٹن کی پیٹھ پر گھونسہ مار کر کہا کہ میں نے تمہارے جیسے بہت پائلٹ دیکھے ہیں

I have seen many pilots like you.

کیپٹن بھٹناگر اس صورت حال سے گھبرا اٹھے۔ انھوں نے فوراً جہاز کو موڑ دیا اور اس کو واپس لا کر دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتار دیا۔ اس کے بعد بمبئی کے ہوائی اڈہ پر کافی دیر تک ہنگامہ رہا بالآخر انڈین ائیر لائنز کےذ مہ داروں نے جہاز کو دوسرے پائلٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ جہاز جب بمبئیسے دہلی پہنچا تو وہ تین گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ مسافر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر برداشت نہ کی۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ وہ تین گھنٹہ تاخیر کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچے۔ مزید یہ کہ انڈین ائیر لائنز کے ذمہ داروں نے ایک انکوائری (High-level inquiry) بٹھائی ہے (ٹائمس آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمس 16 جنوری 1986)۔ مذکورہ مسافر بالفرض کسی سزا سے بچ جائے تب بھی وہ ایک انجام سے بچ نہیں سکتے— اسی چیز کی اور زیادہ قیمت دینا جس کی تھوڑی قیمت دینے پر وہ راضی نہیں ہوئے تھے ، یعنی وقت۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے مقصد کو کھو رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوں۔ حالاں کہ اس کی تیزی کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کچھ اور دور ہو جائے۔

جینے کا راز

ایک مسلمان لیڈر نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام ایک خط لکھا۔ اس میں انہوں نے یہ شکایت کی کہ مسلم اقلیت کے ساتھ ہندوستان میں ظلم اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس صورتِ حال کو ختم نہ کیا گیا تو ان کی پارٹی ستیہ گرہ شروع کر دے گی۔ اس کے جواب میں مسز اندرا گاندھی نے مکتوب نگار کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا 

No minority could survive if their neighbours of the majority were irritated.

کوئی اقلیت زندہ نہیں رہ سکتی اگر اس کی پڑوسی اکثریت مشتعل ہو۔ (ہندوستان ٹائمز 21 فروری 1983)

اگر بالکل غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو وزیر اعظم اندرا گاندھی کا یہ جملہ صورتِ حال کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ نیز اسی کے اندر مذکورہ مسئلہ کا حقیقی حل بھی چھپا ہوا ہے۔

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک دوسرے کے خلاف ناراضگی کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔ کوئی آگے بڑھ گیا ہے تو دوسروں میں اس کے خلاف حسد کا جذبہ ، کسی کو زیادہ مل گیا ہے تو اس کے مقابلہ میں اپنی محرومی کا احساس، کسی سے شکایت کی کوئی بات ہو جائے تو اس کے خلاف غصہ اور انتقام ، وغیرہ۔ اس قسم کے جذبات انتہائی عام ہیں او روہ ہر سماج میں بلکہ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں۔ مگر عام حالات میں وہ دلوں کے اندر چھپے رہتے ہیں۔ لوگوں کی روز مرہ کی مصروفیات بھی اس کے ابھرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آجائے تو یہ جذبات ظاہر ہو جاتے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

سماجی امن درحقیقت اس کا نام ہے کہ ان منفی جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ اس کے برعکس، سماجی بدامنی یہ ہے کہ کوئی نادانی کر کے ان چھپے ہوئے جذبات کو مشتعل کر دیا جائے۔

یہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں کوئی معاشرہ حتی کہ کوئی خاندان اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں زندگی کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ صبر اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے دبے ہوئے جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ ان کو ہر قیمت پر بروئے کار آنے سے روکا جائے۔

زندگی کا یہی راز ہے جس کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے— اس دنیامیں ہر آدمی کے پاس ایک وسیع قبرستان ہونا چاہیے جس میں وہ لوگوں کے قصوروں کو دفن کر سکے۔

other sourceWords of another person or source

صبرکی ضرورت

مغل حکمراں اورنگ زیب کو اپنے والد شاہ جہاں سے سیاسی اختلاف ہو ا۔ 1658ء میں اس نے شاہجہاں کو تخت سے بے دخل کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اسی حال میں شاہجہاں 1666ء میں 74 سال کی عمر میں مر گیا۔ اسیری کے زمانہ میں اس کی بہن جہاں آرا بھی قلعہ میں اس کے ساتھ تھی۔ شاہ جہاں آگرہ کے قلعہ سے تاج محل کو دیکھا کرتا تھا اور اشعار پڑھتا رہتا تھا۔

ڈاکٹر آر۔ سی۔ مجمدار ، ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ رائے چودھری اور ڈاکٹر کالی کِنکر دتہ نے اپنی مشترک کتاب تاریخ ہند (An Advanced History of India) میں شاہ جہاں کے آخری حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے مذہب میں اپنی تسکین کا سامان پا لیا۔ اور صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آخری ایام اپنی پارسا لڑکی جہاں آرا کے ساتھ عبادت اور مراقبہ میں گزار دیے یہاں تک کہ مر گیا 

other sourceWords of another person or source

He found solace in religion, and, in a spirit of resignation, passed his last days in prayer and meditation in the company of his pious daughter, Jahanara, till his death (p. 477)

کہا جاتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد شاہ جہاں قید کی زندگی سے گھبرا اٹھا۔ اس نے اورنگ زیب کو ایک مصرعہ لکھ کر بھیجا جس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو ہم کو مار ڈالو یا دام دو یا پھر ہم کو آزاد چھوڑ دو

other sourceWords of another person or source

یا بکش یا دام دہ یا ازقفس آزاد کن

اورنگ زیب نے بھی اس کے جواب میں ایک اور مصرعہ لکھ کر شاہ جہاں کے پاس بھیج دیا۔ جو یہ تھا کہ ہوشیار چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے 

مرغ زیر ک چوں بدام افتد تحمل بایدش

ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو ، صرف ایک لطیفہ ہو۔ تاہم یہ بذات خود ایک حکمت کی بات ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی غلطی یا کسی حادثہ کی بنا پر ایک ایسی صورت حال میں پھنس جاتا ہے جو اس کے لیے عام حالات میں بالکل نا قابل برداشت ہوتی ہے۔ مگر اب جہاں وہ پھنس گیا ہے وہاں سے فوری طور پر نکلنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں گھبرا کر کوئی اقدام کرنا سراسر نادانی ہے۔ جال میں پھنسنے کے بعد چڑیا اگر پر پھڑ پھڑ ائے تو وہ اور زیادہ پھنستی چلی جاتی ہے ، اسی طرح کسی نازک صورت حال میں پھنس جانے کے بعد آدمی اگر بے صبری کے ساتھ کاروائی کرے تو وہ اور زیادہ اس میں الجھ جائے گا۔

حکمت کا یہ اصول افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔

رد عمل کے بغیر

ایک ہندی کہاوت ہے— چوٹ سہے جو شبد کی وائے گرو میں داس۔ یعنی جو شخص لفظ کی چوٹ سہ سکے وہ اس قابل ہے کہ اس کو پیشوائی کا درجہ دیا جائے اور دوسرے لوگ اس کے خادم بن کر رہیں۔

لفظ کو سن کر بظاہر نہ کسی کا خون بہتا اور نہ کسی کا ہاتھ پائوں ٹوٹتا۔ مگر لفظ کی چوٹ کو برداشت کرنا بلاشبہ کسی آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے ، لفظ کی چوٹ وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جس کے اندر گہرائی ہو۔ جو ظاہری سطح سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔

مسٹر کرشنا مورتی (عمر 90 سال ) ہندوستان کے مشہور مفکر ہیں۔ وہ نہایت عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تقریروں میں انگریزی دان طبقہ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی ان کی تقریریں دل چسپی سے سنی جاتی ہیں۔

تاہم کرشنا مورتی کو یہ شکایت ہے کہ کوئی ان کے خیالات کو عملی طور پر نہیں اپناتا۔ مدراس کی ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ 50 سال سے میں دنیا بھر میں سفر کر کے اپنے خیالات پیش کر رہا ہوں مگر لوگوں کے اندر کوئی عملی حرکت پیدا نہیں ہوتی ’’ کیا آپ لوگ اپنے آپ کو بدل لیں گے ‘‘۔ انھوں نے مجمع سے سوال کیا، پھر خود ہی جواب دیا ’’ آپ لوگ میری باتیں سن کر واپس چلے جائیں گے اور بد ستور ویسا ہی کرتے رہیں گے جیسا اب تک کر رہے تھے‘‘۔

other sourceWords of another person or source

یہ سن کر مجمع سے ایک شخص اٹھا اور سخت غصہ میں کہا ’’ ہر سال آپ یہی کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ پھر کس لیے آپ ہم کو اپنی بات سناتے رہتے ہیں ‘‘ اس کے جواب میں مسٹر کرشنا مورتی نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Sir, have you ever asked a rose why does it bloom?

جناب ، کیا آپ نے کبھی گلاب سے پوچھا ہے کہ وہ کیوں کھلتا ہے (ہندوستان ٹائمس 24 فروری 1984)

تنقیدی بات سن کر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بپھر اٹھتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر بپھرنا خود اپنا ہی نقصان کرنا ہے۔ اگر آپ مخاطب کی تنقید سن کر غصہ ہو جائیں تو آپ صرف تیز وتند الفاظ بولیں گے۔ لیکن اگر ایسے موقع پر آپ اپنے جذبات کو سنبھال لیں تو آپ ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو دل میں اتر جائے اور مخاطب کو خاموش کر دے۔

آسانی ہمیشہ مشکلوں کے بعد آتی ہے

گرمیوںکے موسم میں گردوغبار سے بھری ہوئی آندھی جب اٹھتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر روس کے ماہرین موسمیات نے قراقرم کے ریگستانوں میں تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ گرد بھری ہوئی آندھیاں زمین پر موسم کی سختی کو کنٹرول کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں۔ جب آندھیاں چلتی ہیں تو ان کی وجہ سے گرد اٹھ کر اوپر چھا جاتی ہے اور فضا میں ایک غلاف کی صورت بنا لیتی ہے۔ اس طرح یہ آندھیاں زمین کی سطح کو گرمی کی تپش سے محفوظ رکھتی ہیں۔ روسی سائنس دانوں نے مختلف آلات اور جہازوں کا استعمال کر کے آندھیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی ریگستان کی تپتی ہوئی سطح اس وقت ٹھنڈی ہو جاتی ہے جب گرد سے بھری ہوئی آندھیاں چلنا شروع ہوتی ہیں۔ گرد کے یہ سایہ دار بادل محدود فضا میں بھی چھا سکتے ہیں اور کافی دور تک بھی ، جیسے عرب سے جنوبی امریکا تک اور وسط ایشیا سے بحر آرکٹک تک۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدرت کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ ہر مفید واقعہ کسی پُر مشقت عمل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جب اپنی زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بنائیں تو اس حقیقت کو بھی ضرور سامنے رکھیں کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے ہم کو جدوجہد کے پُر مشقت دور سے گزرنا ہو گا۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اسی ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اور اس سے مطابقت کر کے ہی ہم کوئی مفید نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ ہم کو ’’آندھی ‘‘ کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور اس کے بغیر ہی ہمارے سروں پر ٹھنڈا بادل سایہ کرلے تو ایسے نتیجہ کو پانے کے لیے ہمیں دوسری کائنات بنانی پڑے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں نا کامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی فوراً کامیابی چاہتا ہے۔ ’’ مختصر راستہ ‘‘ کا لفظ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی دنیا کے لیےصحیح ہے مگر زندگی کی جدوجہد میں ’’ مختصر راستہ ‘‘ کی قسم کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ سورت میں ہیرے کی ایک دکان ہے جو دوسری منزل پر ہے۔ ایک نوجوان اس دکان میں داخل ہوا۔ اس نے ایک ہیرا چرا لیا اور اس کو لے کر باہر نکل جانا چاہا۔ مگر دکان کے آدمیوں کو شبہ ہو گیا۔ انھوںنے فوراً سیڑھی کا دروازہ بند کر دیا اورنوجوان سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ نوجوان نے دیکھا کہ سیڑھی کے راستہ سے بھاگنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ تیزی سے قریب کی کھڑکی میں داخل ہوا اور وہاں سے نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ بظاہر اس نے بھاگ نکلنے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔ مگر دوسری منزل سے جب وہ سڑک پر گرا تو اس کو اتنی سخت چوٹ آئی کہ وہ وہیں سڑک پر مر گیا (ٹائمس آف انڈیا 21 جنوری 1980)— ’’ سیڑھی ‘‘ کا راستہ اگر کسی کو بند نظر آئے تووہ ’’ کھڑکی ‘‘ سے چھلانگ لگا کر سڑک پر نہیں پہنچ سکتا۔ ایسی چھلانگ اس کو جہاں پہنچائے گی وہ قبر ہے،نہ کہ سڑک۔ بظاہر یہ ایک احمق نوجوان کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر بہت سے عقل مند لوگ بھی ٹھیک اسی طریقہ کو اپنی زندگی میں دہراتے ہیں اور بالآخر اسی انجام سے دو چار ہوتے ہیں جس سے مذکورہ نوجوان دوچار ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اپنی کمیوں کو جانئے

وہ بڑھاپے کی منزل میں تھا۔ مگر اس نے شادی نہیں کی تھی ، اس لیے کہ اس کو ایک آئیڈیل رفیقۂ حیات کی تلاش تھی۔ لوگوں نے پوچھا  کیا آپ کو زندگی بھر کوئی ایسی خاتون نہیں ملی جو آئیڈیل رفیقۂ حیات بن سکتی ہو۔ اس نے جواب دیا  ایک خاتون ایسی ملی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ وہ بھی اپنے لیے ایک آئیڈیل شوہر تلاش کر رہی تھی— اور بدقسمتی سے میں اس کے معیار پر پورا نہ اتر سکا۔

لوگ عام طور پر دوسروں کی کمیوں کو جاننے کے ماہر ہوتے ہیں اس لیے ان کا کسی سے نباہ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اپنی کمیوں کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ بھی اسی بشری مقام پر ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اپنی کمیوں کا احساس آدمی کے اندر تواضع اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بر عکس، اگر وہ صرف دوسروں کی کمیوں کو جانتا ہو تو اس کے اندرگھمنڈپیدا ہو گا اور کسی سے نباہ کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی ایک آدمی میں ساری خصوصیات جمع نہیں ہوتیں۔ کسی میں کوئی خصوصیت ہوتی ہے اور کسی میں کوئی خصوصیت۔ پھر جس شخص میں کوئی ایک خصوصیت ہوتی ہے اس کے اندر اسی نسبت سے کچھ اور خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو گویا اس خصوصیت کا ضمنی نتیجہ ہوتی ہیں مثلاً ایک شخص اگر بہادر ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر شدت ہو گی۔ ایک شخص شریف ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر نرمی ہو گی۔ ایک شخص حساس ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر غصہ ہو گا۔ ایک شخص ذہین ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر تنقیدی مادہ ہو گا۔ ایک شخص عملی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر فکری استعداد کم ہو گی، وغیرہ۔

ایسی حالت میں قابل عمل بات صرف ایک ہے۔ ہم جس شخص کے ’’روشن پہلو ‘‘سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اس کے ’’ تاریک پہلو ‘‘ کو نظر انداز کریں۔ یہی واحد تدبیر ہے جس سے ہم کسی کی صلاحیتوں کو اپنے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات ہوں یا مالک اور ملازم کے تعلقات یا دکان دار اور شرکت دار کے تعلقات ہر جگہ اسی اصول کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو ’’ پھول ‘‘ لینا ہے تو ہم کو ’’ کانٹے ‘‘ کو بھی برداشت کرنا ہو گا۔ جس کے اندر کانٹے کی برداشت نہ ہو اس کے لیے اس دنیا میں پھول کا مالک بننا بھی مقدرنہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہا آدمی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مطلوبہ کام کی پشت پر کئی آدمیوں کی صلاحیتیں ہوں۔ اسی ضرورت نے مشترک سرمایہ کی کمپنیوں کا تصور پیدا کیا ہے۔ لیکن کئی آدمیوں کامل کرکسی مقصد کی تکمیل کے لیے جہدوجہد کرنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کے افراد میں صبر اور وسعتِ ظرف کا مادہ ہو۔ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے نہ الجھیں۔ وہ نا خوش گوار باتوں کو یاد رکھنے کے بجائے نا خوش گوار باتوں کو بھلانے کی کوشش کریں۔ معیار پسندی بہت اچھی چیز ہے مگر جب معیار کا حصول ممکن نہ ہو تو حقیقت پسندی سب سے بہتر طریق عمل ہوتا ہے۔

صبر کی زمین پر

ہری بھری فصل مٹی کے کھیت میں اگتی ہے،نہ کہ سونے چاند ی کے فرش پر— یہ محدود معنوں میں صرف زراعت کی بات نہیں۔ بلکہ یہ زندگی کا عالم گیر قانون ہے۔ خدا نے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لیے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اسی خاص نظام کے تحت وہ چیز وجود میں آتی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہم اس کو وجود میں نہیں لا سکتے۔

یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو صبر کی زمین پر دینا پڑتا ہے۔ زندگی ایک ایسی کھیتی ہے جو صبر کی زمین پر اگتی ہے۔ خدا نے ابدی طور پر مقرر کر دیا ہے کہ زندگی کی تعمیر صبر کی زمین پر ہو اب قیامت تک یہی ہونا ہے۔ ہم اس کی تعمیر کے لیے کوئی دوسری زمین نہیں بنا سکتے۔

صبر کسی منفی چیز کا نام نہیں وہ سراسر ایک مثبت رویہ ہے۔ صبر کامطلب ہے— بے سوچے سمجھے کر گزرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنا کام کرنا۔ جذباتی رد عمل کے بجائے شعوری فیصلہ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا۔ وقتی ناامیدیوں میں مستقبل کی امید کو دیکھ لینا۔ حالات میں گھر کر رائے قائم کرنے کے بجائے حالات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا۔

ایک بیج کو آپ سونے کی پلیٹ میں رکھ دیں تو وہ اپنی زندگی کے سر چشموں سے مربوط نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے اسباب سے بھری ہوئی کائنات میں بے اسباب بنا ہوا پڑ ا رہتا ہے۔ وہ اپجائو کی ساری صلاحیت رکھتے ہوئے اپجنے سے محروم رہتا ہے۔

یہی حال انسان کا ہے۔ اگر وہ بے صبری کی حالت میں ہو تو وہ خدائی سر سبز وشاداب دنیا میں ایک ٹھنٹھ کی مانند سوکھا ہوا پڑا رہے گا۔ لیکن صبر کو اختیار کرتے ہی وہ اچانک خدا کی زمین میں اپنی جڑیں پا لیتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بالآخر پورا درخت بن جاتا ہے۔

جب آدمی حقیقی معنوں میں صبر کا ثبوت دیتا ہےتووہ بندوں کی سطح پر جینے کے بجائے خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ دنیا کی تنگیوں سے گزر کر وہ آخرت کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بے معنی زندگی کے مرحلہ سے نکل کر با معنی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

صبر والا انسان ہی مومن انسان ہے۔ اسی کے لیے وہ ابدی انعام مقدر کیا گیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

انتقام نہیں

ایک صاحب ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک گاڑی تھی جس کا لائسنس رسمی طور پر دوسرے کے نام تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس آدمی کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے چاہا کہ کاغذ میں قانونی اندراج سے فائدہ اٹھا کر گاڑی پر قبضہ کرلے یا اس کے معاوضہ میں ان سے کوئی بڑی رقم حاصل کرے۔ ٹرانسپورٹ کے مالک کے سامنے جب یہ بات آئی تو اس کے بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ اپنے اس ’’ دوست ‘‘ کا جانی دشمن ہو گیا۔

اب اس کا ذہن ہر وقت ایک ہی سوچ میں رہتا۔ وہ یہ کہ اس شخص کو کس طرح مروایا جائے۔ انتقام کے جذبہ نے اس کے ذہن کو جرائم کا کارخانہ بنا دیا۔ اب اس کو نہ اپنے کاروبار کی ترقی کی فکر تھی نہ اپنے گھر کو بنانے کی۔ ساری فکر اس بات کی تھی کہ مذکورہ شخص کو کسی نہ کسی طرح ہلاک کر دیا جائے۔ اسی حال میں چھ ماہ گزر گئے۔ بالآخر ایک ایسا واقعہ پیش ا ٓیا جس نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ اتفاقاً ایک مقام پر گیا ہوا تھا۔ ایک سڑک سے گزرتے ہوئے اس کے کان میں کچھ آوازیں آئیں۔ اس کو محسوس ہوا کہ یہاں کوئی تقریر ہو رہی ہے۔ وہ جلسہ گاہ کی طرف مڑ گیا اور وہاں بیٹھ کر تقریر سننے لگا۔ تقریر کرنے والا کہہ رہا تھا 

’’انتقام لینے سے پہلے سوچ لوکہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ ‘‘

تقریر کی سادگی نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ انتہائی غور کے ساتھ مقرر کی باتیں سنتا رہا جو بار بار مختلف مثالوں کے ذریعہ اپنے نقطہ نظر کو واضح کر رہا تھا۔ تقریر کے بعد جب وہ جلسہ گاہ سے اٹھا تو وہ دوسرا انسان بن چکا تھا۔ ان نے طے کیا کہ وہ انتقام کے ذہن کو ختم کر دے گا اور مذکورہ شخص کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کر کے اپنے کاروبار کی ترقی میں لگ جائے گا۔

ٹرانسپورٹ کے مالک کو اب تک کام کرنے کاصرف ’’ تخریبی ڈھانچہ ‘‘ معلوم تھا۔ اب انھوں نے کام کرنے کا ’’تعمیری ڈھانچہ ‘‘ دریافت کر لیا۔ ان کو معلوم ہوا کہ کام کرنے کا وہی ایک اندا ز نہیں ہے جس پر دوسرے اکثر لوگ چل رہے ہیںٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ۔ کام کرنے کا ایک اور انداز بھی ہے۔ اور وہ ہے— دوسرےکے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے پیچھے دوڑنا۔

مذکورہ شخص نے اب اسی دوسرے طریقے کو پکڑ لیا۔ انھوں نے 6 ستمبر 1983 کی ایک ملاقات میں کہا کہ ’’ اب وہ اپنے کو زیادہ پر سکون بھی پاتے ہیں اور زیادہ کامیاب بھی ‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نا گزیر برائی

مسٹر ڈی کے داس دہلی کے اعلیٰ ترین سرکاری افسران (Seniormost IAS officers) میں سے ایک تھے۔ دہلی کی ایک پوش کالونی ’’ مدھوبن ‘‘ میں ان کا بہت بڑا مکان تھا۔

مگر 13 اگست 1985 کو انھوں نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی۔ ان کی اہلیہ مسز ہیناداس ایک بجے دن میں ان کے کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کا مردہ جسم چھت کے پنکھے سے بندھا ہوا لٹکا تھا۔ موت کے وقت مسٹر د اس کی عمر 56 سال تھی۔ وہ حال میں دہلی ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئر مین مقرر ہوئے تھے اور آئی اے ایس کے اسکیل کا آخری مشاہرہ پا رہے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر داس نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس سلسلہ میں ہم دو اخباروں کی رپورٹ سے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں۔ پہلا اقتباس ہندوستان ٹائمس 4 اگست کا ہے اور دوسرا ٹائمس آف انڈیا 4 اگست کا ہے

A businessman friend of Mr Das said the deceased bureaucrat was dissatisfied with many of the postings he got. He said that Mr Das often used to say that he was always given insignificant and ordinary positions. He was also depressed because he felt that he was not being given his due in the Delhi administration.

other sourceWords of another person or source

مسٹر داس کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ آنجہانی افسر اپنی کئی تقرری پر مطمئن نہ تھے۔ مسٹر داس اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کو ہمیشہ غیر اہم اور معمولی پوزیشن دی جاتی ہے۔ وہ غیرمطمئن بھی تھے کیوں کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ دہلی ایڈ منسٹریشن میں ان کو ان کی واجبی جگہ نہیں دی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس دنیا میں کوئی شخص اقلیتی فرقہ کا ہو یا اکثریتی فرقہ کا ، معمولی ملازم ہو یا اعلیٰ عہدیدار ، ہر حال میں اس کو کہیں نہ کہیں امتیازی برتائو کا تجربہ ہوتا ہے۔ امتیاز اس دنیا کی نا گزیر برائی ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اس احساس سے بچ نہیں سکتا کہ اس کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ اس صورت حال کو گوارا کیا جائے۔ کیوں کہ اس کو گوارا نہ کرنا آدمی کو یا تو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے یا خود کشی کی طرف۔

چھلانگ نہیں

A young man once came to a venerable master and asked, “How long will it take to reach enlightenment”?

The master said, “Ten years.”

The young man blurred, “So long”.

The master said ,“ No. I was mistaken. It will take you 20 years”.

other sourceWords of another person or source

The young man asked, “Why do you keep adding to it”.

The master answered, “ Come to think of it, in your case it will probably be 30 years”.

اوپر کا اقتباس فلپ کپلیو (Philip Kapleau) کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے  ایک نوجوان شخص ایک بار ایک بزرگ استاد کے پاس آیا اور کہا  صاحبِ علم بننے میں کتنا وقت لگے گا۔

other sourceWords of another person or source

’’ دس سال ‘‘۔ استاد نے جواب دیا۔

’’اتنی لمبی مدت ‘‘۔ نوجوان بولا۔

استاد نے کہا ’’ نہیں مجھ سے غلطی ہو گئی۔ تمہارے لیے اس میں 20سال کی مدت درکار ہو گی۔

other sourceWords of another person or source

نوجوان شخص نے پوچھا ، ’’آپ مدت میں اضافہ کیوں کرتے جا رہے ہیں ‘‘۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

استاد نے جواب دیا  ’’بات کو سمجھو ، تمہارے معاملہ میں غالباً اس کو 30 سال لگ جائیں گے ‘‘۔ (آر ڈی جنوری 1983 )۔ جو مقصد عام رفتار سے 10 سال میں حاصل ہوتا ہو اس کو آپ دس دن میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ چھلانگوں کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ اور چھلانگوں کے ذریعہ سفر ہمیشہ اصل سفر کو طویل تر بنا دیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چھلانگ لگانے والے کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی چٹان سے ٹکرا جاتا ہے یا کسی کھڈ میں جا گرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو پیچھے لوٹ کر کسی اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے جہاں وہ مدت تک علاج کے لیے پڑا رہے۔ اگر وہ عام رفتار سے چلتا تو وقت پر اپنی منزل تک پہنچ جاتا۔ مگر چھلانگ نے اس کو پیچھے ڈال کر اس کے سفر کو اور لمبا کر دیا۔

کسی کام میں دیر لگانا جتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ آپ اس کو جلد پورا کرنا چاہیں ہر کام کی تکمیل کا ایک وقت ہے اور صحیح تکمیل وہی ہے جو اپنے وقت پر انجام پائے دیر کرنا اگر سستی ہے تو جلدی کرنا بے صبری، اور خدا کی اس محکم دنیا میں دونوں بالآخر جہاں پہنچتے ہیں وہ بے انجامی کے سوا اور کچھ نہیں۔

حوصلہ مندی

حوصلہ مندی

نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبد السلام نے جنوری 1986 میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں ان کی تقریروں کی رپورٹیں اخبارات میں آتی رہیں۔ ان کی ایک تقریر کی رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ شامل تھے 

Citing the example of South Korea, he said that about 15 years ago, the gross national product per capita there was equal to that of India. However, it was many times more now due to the efforts they had put. Prof. Salam said that a team from South Korea had come to Trieste, Italy , where he stays, and wanted to know how Nobel prizes were won. He said that it was a similar spirit which should be inculcated in the people of the third world.

unverifiedAttribution could not be verified automatically

The Times of India, January 16, 1986

جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر عبد السلام نے کہا کہ تقریباً پندرہ سال پہلے اس کی اور ہندوستان کی قومی پیداوار فی شخص برابر تھی۔ مگر اب جنوبی کوریا کی کوششوں کے نتیجہ میں اس کی فی شخص قومی پیداوار ہندوستان سے کئی گُنا زیادہ ہو چکی ہے۔ پروفیسر عبد السلام نے کہا کہ جنوبی کوریا کی ایک ٹیم ٹریسٹ ( اٹلی ) آئی جہاں وہ رہتے ہیں اور ان سے یہ جاننا چاہا کہ نوبل انعام کس طرح حاصل کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ، یہی وہ روح ہے جو تیسری دنیا کے لوگوں میں پیدا کی جانی چاہیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تلاش کا یہ جذبہ ہی تمام ترقیوں کی بنیاد ہے ، خواہ وہ فرد کی ترقی کا معاملہ ہو یا قوم کی ترقی کا معاملہ۔ اور خواہ اس کا تعلق دنیا کی ترقیوں سے ہو یا آخرت کی ترقیوں سے۔ ہر ترقی انھیں لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اندر تلاش وجستجو کا کبھی نہ ختم ہونے والا جذبہ رکھتے ہوں۔

تلاش کا جذبہ یہ بتاتا ہے کہ آدمی کے اندر جمود نہیں پیدا ہوا ہے۔ اور جمود تمام ترقیوں کا قاتل ہے۔ جہاں جمود آیا وہاں ترقی کا عمل بھی لازمی طور پر رک جائے گا۔ جمود کی حالت طاری ہونے کے بعد آدمی ’’ مزید ‘‘ کے شوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور جس سے مزید کا شوق رخصت ہو جائے وہ جہاں ہے وہاں بھی باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ پیچھے جانا شروع ہو جائے گا ،یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں پہنچ جائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it