Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

صحیح سبق

Urdu · 2 min read

حضرت شفیق بلخی اور حضرت ابراہیم ادہم دونوں ہم زمانہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شفیق بلخی اپنے دوست ابراہیم ادہم کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پرجا رہا ہوں۔ سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں۔ کیوں کہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔

اس ملاقات کے چند دن بعد حضرت ابراہیم ادہم نے دیکھا کہ شفیق بلخی دوبارہ مسجد میں موجود ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ تم سفر سے اتنی جلدی کیسے لوٹ آئے۔ شفیق بلخی نے بتایا کہ میں تجارتی سفر پرروانہ ہو کر ایک جگہ پہنچا۔ وہ ایک غیر آباد جگہ تھی۔ میں نے وہاں پڑا ئو ڈالا۔ وہاں میں نے ایک چڑیا دیکھی جو اڑنے کی طاقت سے محروم تھی۔ مجھے اس کو دیکھ کر ترس آیا۔ میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ چڑیا اپنی خوراک کیسے پاتی ہو گی۔ میں اس سوچ میں تھا کہ اتنے میں ایک اور چڑیا آئی۔ اس نے اپنی چونچ میں کوئی چیز دبا رکھی تھی۔ وہ معذور چڑیا کے پاس اتری تو اس کی چونچ کی چیز اس کے سامنے گر گئی۔ معذور چڑیا نے اس کو اٹھا کر کھا لیا۔ اس کے بعد آنے والی طاقت ور چڑیا اڑ گئی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا سبحان اللہ۔ خدا جب ایک چڑیا کا رزق اس طرح اس کے پاس پہنچا سکتا ہے تو مجھ کو رزق کے لیے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم ادہم نے کہا کہ شفیق ، تم نے اپا ہج پرندے کی طرح بننا کیوں پسند کیا۔ تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے کی سی ہو جو اپنے قوت بازو سے خود بھی کھاتا ہے اور اپنے دوسرے ہم جنسوں کو بھی کھلاتا ہے۔ شفیق بلخی نے یہ سنا تو ابراہیم ادہم کا ہاتھ چوم لیا اور کہا کہ ابو اسحاق ، تم نے میری آنکھ کا پردہ ہٹا دیا۔ وہی بات صحیح ہے جو تم نے کہی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک ہی واقعہ ہے ، اس سے ایک شخص نے بے ہمتی کا سبق لیا اور دوسرے شخص نے ہمت کا۔ اسی طرح ہر واقعہ میں بیک وقت دو پہلو موجود ہوتے ہیں۔ یہ آدمی کا اپنا امتحان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کس زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایک زاویہ سے دیکھنے میں ایک چیز بری نظر آتی ہے ، دوسرے زاویہ سے دیکھنے میں وہی چیز اچھی بن جاتی ہے۔ ایک رُخ سے دیکھنے میں ایک واقعہ میں منفی سبق ہوتا ہے اور دوسرے رخ سے دیکھنے میں مثبت سبق۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content