Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

مستقل ارادہ

Urdu · 2 min read

کسی مفکر کا قول ہے  ’’ لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی ‘‘۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اکثر لوگوں کے اندر صلاحیت پوری طرح موجود ہوتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ وہ صرف اس لیے نہیں اٹھا پاتے کہ وہ استقلال کے ساتھ دیر تک جدوجہد نہیں کر سکتے۔ اور کسی واقعی کامیابی کے لیے لمبی جدوجہد فیصلہ کن طور پر ضروری ہے۔ اگر آپ اپنی کوششوں کاکوئی ٹھوس اور مفید نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے دن یہ سوچ لیجئے کہ آپ کو لمبی مدت تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کے اندر انتظار کی طاقت نہیں ہے تو آپ کو اپنے لیے کسی پائدار کامیابی کی امید بھی نہیں رکھنا چاہئے۔ زندگی کا راز ایک لفظ میں یہ ہے— جتنا زیادہ انتظار اتنی ہی زیادہ ترقی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قومی زندگی کی ’’ تعمیر ‘‘ تھوڑے سے وقت میں بھی ہو سکتی ہے اور اس کے لیے زیادہ مدت بھی درکارہوتی ہے۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس قسم کی قومیت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر قوم کے اندر فوری جوش پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر محض منفی نوعیت کے کسی وقتی ابال کو آپ مقصد سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ اگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے والے نعرے لگا کر تھوڑی دیر کے لیے ایک بھیڑ جمع کرلینے کو آپ کام سمجھتے ہیں۔ ا گر جلسوں کی دھوم کا نام آپ کے نزدیک قوم کی تعمیر ہے تواس قسم کی قومی تعمیر ، اگر اتفاق سے اس کے حالات فراہم ہو گئے ہوں ، آناً فاناً ہوسکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کی تعمیر سے زیادہ قیادت کی تعمیر ہے۔ کیونکہ اس طرح کے شوروشر سے وقتی طور پر کچھ قائدین کو تو ضرور فائدہ ہو جاتا ہے۔ مگر انسانیت کے اس مجموعی تسلسل کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کو قوم یا ملت کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو اس قسم کے طریقے گویا ایک قسم کا استحصال ہیں۔ جن سے فائدہ اٹھا کر وقتی طور پر کچھ لوگ اپنی قیادت جما لیتے ہیں۔ یہ سستی لیڈری حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ ہے۔ جس کو سطحی قسم کے لوگ نادانی کی بنا پر یا ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

اگر ہم واقعی قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم شاہ بلوط کا درخت اگانے اٹھے ہیں،نہ کہ ککڑی کی بیل جمانے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو لازمی طور پر لمبا منصوبہ چاہتا ہے۔ تھوڑی مدت میںاس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی لیڈر ایسے نعرے لگاتا ہے تو وہ یا تواس کی سادہ لوحی کی دلیل ہے یا اس کی استحصالی ذہنیت کی۔ اور اگر کوئی قوم ایسی ہے جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر وترقی کا قلعہ بنا بنا یا دیکھنا چاہتی ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ ایسے قلعے صرف ذہنوں میں بنتے ہیں ، عالم واقعہ میں نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content