Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

قدرت کا نظام

Urdu · 2 min read

اگر آپ اپنا کمرہ بند کرکے باہر چلے جائیں اور چند مہینہ کے بعد واپس آکر اسے کھولیں تو ہر طرف اتنی گرد پڑی ہوئی ہوگی کہ جب تک آپ اسے صاف نہ کرلیں آپ اس کمرہ میں بیٹھنا پسند نہ کریں گے۔ تیز ہوا کے ساتھ جب گرد اٹھتی ہے تو آدمی سخت پریشان ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ گردکی آفت اس سے دور ہوجائے۔

لیکن گرد کیا ہے۔ یہ زمین کی اوپر ی سطح کی وہ زرخیزمٹی ہے جس سے ہر قسم کی سبزیاں ، پھل اور غلّے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی سطح پر یہ مٹی نہ ہوتو زمین پر زندگی گزارنا آدمی کے لیے ناممکن ہوجائے۔

پھر یہی گرد ہے جو فضا میں کثافت پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے پانی کے بخارات بادل کی صورت اختیار کرتے ہیں اور بوند بوند کرکے زمین پر برستے ہیں۔ زمین کی اوپری فضا میں گرد نہ ہو تو بارش کا عمل ختم ہوجائے۔

سورج نکلنے اور ڈوبنے کے وقت جو رنگین شفق آسمان کے کناروں پر دکھائی دیتی ہے وہ بھی فضامیں اسی گرد کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ گرد ہمارے لیے ایک مفید مادہ بھی ہے اور ہماری دنیا کو خوش منظر بنانے کا ذریعہ بھی۔

یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں کس طرح خدا نے ناخوشگوار چیزوں کے ساتھ خوش گوار چیزیں رکھ دی ہیں۔ جس طرح پھول کے ساتھ کانٹا ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ناپسندیدہ چیزوں کا جوڑا بھی لگا ہوا ہے۔

اب جب کہ خود قدرت نے پھول اور کانٹے کو ایک ساتھ پید اکیا ہے تو ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ نباہ کی صورت پیدا کریں۔ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔

دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں لازماً شکایت کے مواقع آئیں گے۔ عقل مند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو بھول جائے۔ وہ شکایت کو نظر انداز کرکے اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.