Maulana Wahiduddin Khan
29 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

ناموافق حالات

Urdu · 29 min read

سروالٹر اسکاٹ (1832۔ 1771) کا شمار انگریزی ادب کے نامور افرادمیں ہوتا ہے۔ مگر اس کو یہ مقام معمولی حیثیت کی قیمت میں ملا۔ اس کی معمولی حیثیت اس کے لیے وہ زینہ بن گئی جس پر چڑھ کر وہ اعلیٰ درجہ کو پہنچے۔

والٹر اسکاٹ اپنی ادھیڑ عمر تک ایک معمولی صلاحیت کاانسان سمجھا جاتا تھا۔ اس کی حیثیت بس ایک تیسرے درجہ کے شاعرکی تھی۔ اس کے بعد ایسا ہو ا کہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدگیا۔ اس کی شاعری اس کو اتنی آمدنی نہ دے سکی جس سے وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کرسکے۔

بالآخر اس کے حالات نہایت شدید ہوگئے۔ شدید حالات نے اس کی شخصیت کو آخر حد تک جھنجھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ والٹر اسکاٹ کے اندر سے ایک نیا انسان ابھر آیا۔ اس کی ذہنی پرواز نے کام کا نیا میدان تلاش کرلیا۔

اب اس نے نئی نئی کتابیں پڑھیں۔ یہاں تک کہ اس پر کھلا کہ وہ محبت کی تاریخی داستانیں لکھے۔ چنانچہ اس نے محبت کی تاریخی داستانوں کو ناول کے انداز میں قلم بند کرنا شروع کردیا۔

قرض کی ادائیگی کے جذبہ نے اس کو ابھار اکہ وہ اس میدان میں زبردست محنت کرے۔ اس نے کئی سال تک اس راہ میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اس کو اپنی کہانی بازار میں اچھی قیمت میں فروخت کرنی تھی اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ اس کی کہانیاں اتنی جاندار ہوں کہ قارئین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکیں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا والٹر اسکاٹ کی غیر معمولی محنت اس کی کہانیوں کی مقبولیت کی ضامن بن گئی۔ اس کی لکھی ہوئی کہانیاں اتنی زیادہ فروخت ہوئیں کہ اس کا سارا قرض ادا ہوگیا۔ والٹر اسکاٹ پر اگر یہ آفت نہ آتی تو اس کے اندر وہ زبردست محرک پیدا نہیں ہوسکتا جس نے اس سے وہ کہانیاں لکھوائیں جس نے اس کو انگریزی ادب میں غیر معمولی مقام دے دیا۔

اس کے بعد والٹر اسکاٹ کو سر کے خطاب سے نواز اگیا۔ والٹر اسکاٹ کے لیے قرض کا مسئلہ نہایت جاں گداز مسئلہ تھا۔ لیکن اگر یہ جاں گداز مسئلہ نہ ہوتا تو والٹراسکاٹ سروالٹر اسکاٹ بھی نہ بنتا۔

میں پڑھ کر پڑھائوں گا

فادر ہنری ہراس (1956۔ 1889) ایک اسپینی مسیحی تھے۔ وہ 34 سال کی عمرمیں 18 نومبر 1922 کو بمبئی کے ساحل پر اترے۔ ہندوستان کی زمین نے ان کو متاثرکیا۔ ان کومحسوس ہوا کہ ان کے تبلیغی حوصلہ کے لیے اس ملک میں کام کا اچھا میدان ہے۔ انہوں نے طے کرلیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنا تبلیغی کام انجام دیں گے۔

مگر ہندوستان ان کا وطن نہیں تھا۔ کام سے پہلے ضروری تھا کہ یہاں ان کے لیے قیام کی کوئی بنیاد ہو۔ یہاں اپنی جگہ بنا کرہی وہ یہاں کی آبادی میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ ہندوستان میں بحیثیت معلم کے قیام کریں گے اور اس کے بعد کالج میں اور کالج کے باہر اپنے لیے کام کی تدبیر کریں گے۔ بمبئی کا ہراس انسٹیٹیوٹ (Heras Institute) انھیں کی یادگار ہے۔

فادر ہراس (Fr. Henry Heras) چند دن بعد سینٹ زیویرس کالج بمبئی کے پرنسپل سے ملے وہ ایک تاریخ دان تھے۔ انھوں نے اپنے ملک سے تاریخ میں ڈگری لی تھی۔ پرنسپل نے ان کے کاغذات دیکھ کر پوچھا ’’آپ یہاں کون سی تاریخ پڑھاناپسندکریں گے‘‘ فادر ہراس نے فوراً جواب دیا ’’ہندوستانی تاریخ‘‘ پرنسپل کااگلا سوال تھا ہندوستانی تاریخ میں آپ کا مطالعہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’کچھ نہیں‘‘۔ پھر آپ کیسے ہندوستانی تاریخ پڑھائیں گے‘‘ پرنسپل نے پوچھا۔ فادر ہراس کا جواب تھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

I shall study it.

میں ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ کرکے اپنے آپ کو تیار کروں گا۔ پھر اس کو پڑھائوں گا۔

فادرہراس جانتے تھے کہ معلمی کا کام وہ بطور پیشہ نہیں اختیار کررہے ہیں کہ یورپ کی تاریخ یا جو مضمون بھی وہ چاہیں پڑھائیں اور مہینہ کے آخر میں تنخواہ لے کر مطمئن ہوجائیں۔ ان کے لیے معلمی کا کام ایک خاص مقصد کی خاطر تھا۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے تبلیغی کام کے لیے مناسب بنیاد فراہم کریں اوراس مقصد کے اعتبار سے ان کے لیے ’’ہندوستانی‘‘ تاریخ سب سے زیادہ موزوں مضمون تھا۔ وہ ہندوستان میں تھے اس لیے ہندوستانی تاریخ کے معلم بن کر وہ زیادہ بہتر طور پر یہاں کے نوجوانوں میں اپنے دین کی تبلیغ کرسکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کی تاریخ سے ناآشنا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مضمون کے لیے ہندوستانی تاریخ کو پسند کیا۔

انہوں نے ہندوستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ نہ صرف اس مضمون کے اچھے معلم بن گئے بلکہ ہندوستانی تاریخ میں سرجدو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سریندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ کی حیثیت حاصل کرلی۔

آغاز میں

جدید صنعتی دنیا کی ایک اصطلاح ہے جس کو کنجی گھمائو منصوبہ (Turn-key Project) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا مکمل طور پر بنا بنایا گھر یا کارخانہ ہے جس میں آدمی کا کام صرف کنجی گھما دینا ہو۔ مسلما ن موجودہ زمانہ میں جس طرح عمل کررہے ہیں اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دنیا کو وہ اپنے لیے اسی قسم کی جگہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال شاید یہ ہے کہ ان کے خدا نے ایک تیار شدہ دنیا ان کے حوالے کردی ہے اور اب ان کا کام صرف یہ ہے ایک کنجی گھما کر وہ اس کو اپنی مرضی کے موافق چلادیں۔

مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عمل اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیں اول سے آخر تک سار ا کام خود کرنا ہے۔ ہمیں دوسروں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہے اسباب کی اس دنیا میں ہم کو اپنی مطلوبہ جگہ مل سکے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے پہلے جو چیز جاننا چاہیے وہ یہ حقیقت ہے کہ وہ تاریخ کے آغاز میں ہیں، تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ اگر وہ جنوری 1985 میں ہو تو دسمبر 1985 کے زمانہ میں پہنچنے کے لیے اس کو بارہ مہینے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ زمین اپنے محور پر 360 بار گھومے گی اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارا ایک سال پورا ہو اور ہم تکمیل سال کے مرحلہ میں پہنچ سکیں۔

یہ اس دنیا کی انتہائی معلوم حقیقت ہے۔ مگر اسی معلوم حقیقت کو مسلمان ملت کی تعمیر کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ وہ عملاً پہلے مہینہ میں ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چھلانگ لگاکر آخری مہینہ میں جاپہنچیں۔ وہ بنیاد کی تعمیر نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خیالی مکان کی بالائی چھت پر کھڑے ہوئے نظر آئیں۔ واقعہ کے اعتبار سے وہ اپنے سفر کے آغاز میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے انتہائی الفاظ بولتے ہیں کہ گویا کہ وہ درمیانی راستہ طے کیے بغیر اپنی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

یاد رکھئے، ہمار اسب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک بامقصد قوم تیار کریں۔ ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں۔ ان کے اندر وہ شعور بیدا رکرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحدہونا جانیں۔ ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں۔ یہ سارے کام جب قابل لحاظ حد تک ہوچکے ہوں گے اس کے بعدہی کوئی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لیے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔ اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کی خندق میں چھلانگ لگانا ہے، نہ کہ زندگی کے چمنستان میں داخل ہونا۔

نئی طاقت جاگ اٹھی

گیرارڈ(اٹلی)نے مغربی لاطینیوں کے لیے وہی کام کیا جو حنین ابن اسحٰق نے مشرقی عربوں کے لیے کیا تھا۔ اس نے عربی زبان سے فلسفہ، ریاضی،طب اور علوم طبیعی کی بے شمار کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کرڈالا۔

گیرارڈ 1114ء میں کریمونا (اٹلی) میں پیداہوا۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتا تھا۔ بطلیموس کی المجسطی (عربی)کی تلاش میں وہ طلیطلہ آیا۔ اس نے 1175ء میں اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ وہ عربی کی کتابوں کا ترجمہ کرنے والوں میں نمایاں ترین شخص بن گیا۔ ایک مسیحی اور ایک یہودی عالم اس کام میں اس کے مددگار تھے۔ اس نے یونانی اور عربی علوم کے دروازے پہلی بار مغرب کے لیے کھول دئیے۔ اس کے بعد دوسرے بہت سے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے اس معاملہ میں اس کی تقلید کی۔ ڈاکٹر میکس میرہاف کے الفاظ میں وہ یورپی دنیا میں عربیت کا بانی تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

علم طب میں گیراڈ نے بقراط و جالینوس کی کتابوں،حنین کے تقریباً تمام ترجموں،الکندی کی تمام تصانیف، بوعلی سینا کی ضخیم ’’قانون‘‘ اور ابوالقاسم زہراوی کی کتاب ’’جراحت‘‘ کا ترجمہ کردیا۔ طبیعیات میں اس نے ارسطو کی بہت سی کتابوں کا عربی سے ترجمہ کیا۔ جن میں حجریات کا وہ رسالہ بھی شامل ہے جو ارسطو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبہ علم میں الکندی ، الفارابی، اسحاق اور ثابت وغیرہ کی کتابوں کو بھی لاطینی میں منتقل کیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

گیراڈ 1187 میں بیمار پڑا۔ اس نے گمان کیا کہ اب اس کی موت قریب ہے۔ ’’اگر میں مرگیا تو قیمتی عربی کتابوں کا ترجمہ مغربی زبان میں کون کرے گا‘‘ اس احساس نے اس کو تڑپادیا۔ اس کے اندر نئی قوت عمل جاگ اٹھی۔ بیماری کے باوجود اس نے ان بقیہ عربی کتابوں کا ترجمہ شروع کردیا جن کو اس نے اپنے پاس جمع کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے صرف ایک مہینے کے اندر اس نے تقریباً اسّی کتابوں کے ترجمے پورے کرلیے۔

عمل کا تعلق حقیقتاً جذبے سے ہے، نہ کہ صحت اور طاقت سے۔ اگر آدمی کے اندر کسی کام کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کام کو وہ ہر حال میں کرڈالتا ہے، خواہ وہ بستر مرض پر ہو۔ خواہ اس کے ظاہری حالات کسی طرح اس کی اجازت نہ دیتے ہوں۔

بے فائدہ مصروفیات

سالزنیٹسین (Alexander Solzhenitsyn) ایک روسی ناول نگار ہے۔ اس کو روسی عوام کے دکھوں کا احساس ہو ااور اس کو اس نے اپنی کہانیوں میں تمثیلی روپ میں ظاہر کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ روس کی اشتراکی حکومت کی نظرمیں ناپسندیدہ شخص بن گیا۔ چنانچہ اس نے اپنا وطن چھوڑ کر امریکا میں پناہ لے لی۔ وہ امریکا کی ایک بستی (Vermont) میں خاموشی سے زندگی گزار رہا ہے۔ اور اپنے خیالات کتابوں کی صورت میں مرتب کرنے میں مصروف ہوگیا۔

مئی 1982ء میں سالزنیٹسین کو امریکی حکومت کا ایک دعوت نامہ ملا۔ اس کے اعزاز میں واشنگٹن کے وائٹ ہائوس میں ایک سرکاری تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دوسرے معزز لوگوں کے علاوہ خود صدر امریکا بھی شریک ہوئے۔ نیز اس دوران میں امریکی صدر ریگن اور سالز نیٹسین کے درمیان 15 منٹ کی ایک خصوصی ملاقات بھی شامل تھی۔

سالز نیٹسین نے صدر امریکا کے نام 3 مئی 1982ء کو ایک جوابی خط لکھا جس کے ذریعہ تقریب میں شرکت سے قطعی معذوری ظاہر کی۔ اس نے لکھا کہ زندگی کے جومختصر لمحات میرے پاس رہ گئے ہیں وہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں رسمی ملاقاتوں میں اپنا وقت صرف کردوں

The life span at my disposal does not leave any time for symbolic encounters.

سالز نیٹسین کے سامنے ایک محدود مقصد تھا۔ یعنی روسی عوام کی دکھ بھری زندگی کو ناول کے انداز میں پیش کرنا۔ اس مقصد نے اس کے اوقات پر اتنا قبضہ کرلیا کہ اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ صدر امریکا کے دعوت نامہ کو رد کردے۔

آدمی کے سامنے اگر کوئی واضح مقصد ہو تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی کی زندگی مقصد سے خالی ہوجائے تو اس کی نظر میں اپنے وقت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ وہ اپنا اندازہ خود اپنی رائے سے کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے کرنے لگتا ہے۔ وہ رسمی جلسوں اور تقریبات میں رونق کا سامان بنتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے جینے کے بجائے دوسروں کے لیے جینے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہوجاتی ہے۔ بظاہر مصروفیتوں سے بھری ہوئی ایک زندگی اس طرح اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے کہ اس کے پاس ایک خالی زندگی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔

کچھ اور کرنا ہے

اٹھاوریں صدی میںجن انگریزوں کی سرفروشی نے ہندوستان کو برطانیہ کی نو آبادی بنایا ان میں لارڈ رابرٹ کلائیو (1774۔ 1725) کا نام سرفہرست ہے۔ 1743 میں جبکہ اس کی عمر صرف 18 سال تھی وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کی حیثیت سے مدراس آیا۔ اس وقت اس کی تنخواہ صرف پانچ پونڈ سالانہ تھی۔ یہ رقم اس کے خرچ کے لیے بہت ناکافی تھی۔ چنانچہ وہ قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبا رہتا اور مایوسانہ جھنجھلاہٹ کے تحت اپنے ساتھیوں اور افسروں سے لڑتا جھگڑتا رہتا۔

اس کے بعد ایک حادثہ ہوا جس نے اس کی زندگی کے رخ کو بدل دیا۔ اس نے اپنی ناکام زندگی کو ختم کرنے کے لیے ایک روز بھرا ہوا پستول لیا او راپنے سر کے اوپر رکھ کر اس کی لبلبی دبادی۔ مگر اس کو سخت حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اس کا پستول نہیں چلا ہے۔ اس نے پستول کھول کر دیکھا تو وہ گولیوں سے بھراہوا تھا۔ اپنے ارادہ کی حدتک اپنے کو ہلاک کرلینے کے باوجود وہ بدستور زندہ حالت میں موجود تھا۔

یہ بڑا عجیب واقعہ تھا۔ رابرٹ کلائیو اس کو دیکھ کر چلا اٹھا ’’ خدا نے یقیناً تم کو کسی اہم کام کے لیے محفوظ رکھا ہے‘‘۔ اب اس نے کلرکی چھوڑدی اور انگریزی فوج میں بھرتی ہوگیا۔ اس زمانہ میں انگریز اور فرانسیسی دونوں بیک وقت ہندوستان میں اپنا قدم جمانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس سلسلے میں دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں رابرٹ کلائیو نے غیر معمولی صلاحیت اور بہادری کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد اس نے ترقی کی اور اس کو انگریزی فوج میں کمانڈر انچیف کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ جس کلائیو نے مایوس ہو کرخود اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر پستول چلالیا تھا ، اس کو اس کے بعد یہ مقام ملا کہ برطانیہ کی تاریخ میں اس کو ہندوستان کے اولین فاتح کی حیثیت سے لکھا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہم میں سے ہر شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ کسی شدید خطرہ میں پڑنے کے باوجود معجزاتی طور پر اس سے بچ جاتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگ ہیں جو رابرٹ کلائیو کی طرح اس سے سبق لیتے ہوں۔ جو اس طرح کے واقعات میں قدرت کا یہ اشارہ پڑھ لیتے ہوں— ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، ابھی دنیا میں تم کو اپنے حصہ کا کام کرنا باقی ہے۔

ہر آدمی کو دنیا میں کام کرنے کی ایک مدت اور کچھ مواقع دیئے گئے ہیں۔ یہ مدت اور مواقع اس سے اس وقت تک نہیں چھنتے جب تک خدا کا لکھا پورا نہ ہوجائے۔ اگر رات کے بعد خدا آپ کے اوپر صبح طلوع کرے تو سمجھ لیجئے کہ خدا کے نزدیک ابھی آپ کے عمل کے کچھ دن باقی ہیں۔ اگر آپ حادثات کی اس دنیا میں اپنی زندگی کو بچانے میں کامیاب ہیںتو اس کا مطلب یہ ہے کہ خداکے منصوبہ کے مطابق آپ کو کچھ اور کرنا ہے جو ابھی آپ نے نہیں کیا۔

قدرت کا سبق

شہد کا سبق

شہد کی مکھیاں پھولوں کا جورس جمع کرتی ہیں وہ سب کا سب شہد نہیں ہوتا۔ اس کا صرف ایک تہائی حصہ شہد بنتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو ایک پونڈ شہد کے لیے20 لاکھ پھولوں کارس حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے مکھیاں تقریباً 30 لاکھ اڑانیں کرتی ہیں۔ اور اس دوران میں وہ مجموعی طور پر 50 ہزار میل تک کی مسافت طے کرتی ہیں۔ رس جب مطلوبہ مقدار میں جمع ہوجاتا ہے تو اس کے بعد شہد سازی کا عمل شروع ہوتاہے۔

شہد اپنے ابتدائی مرحلہ میں پانی کی طرح رقیق ہوتا ہے۔ شہد تیار کرنے والی مکھیاں اپنے پروں کو پنکھے کی طرح استعمال کرکے فاضل پانی کو بھاپ کی مانند اڑا دیتی ہیں۔ جب یہ پانی اڑ جاتا ہے تو اس کے بعد ایک میٹھا سیال باقی رہ جاتا ہے۔ جس کو مکھیاں چوس لیتی ہیں۔ مکھیوں کے منہ میں ایسے غدود ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے اس میٹھے سیال مادہ کو شہد میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اب مکھیاں اس تیار شہد کو چھتے کے مخصوص طور پر بنے ہوئے سوراخوں میں بھرد یتی ہیں۔ یہ سوراخ دوسری مکھیاں موم کے ذریعہ حددرجہ کاریگری کے ساتھ بناتی ہیں۔ مکھیاں شہد کو ان سوراخوں میں بھر کر اس کو ’’ڈبہ بند‘‘ غذا کی طرح اہتمام کے ساتھ محفوظ کردیتی ہیں تاکہ آئندہ وہ انسان کے کام آسکے۔

اس طرح کے بے شمار اہتمام ہیں جو شہد کی تیاری میں کیے جاتے ہیں۔ خدا ایسا کرسکتا تھا کہ طلسماتی طو رپر اچانک شہد پیدا کردے یا پانی کی طرح شہد کا چشمہ زمین پر بہاد ے مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ خدا ہر قسم کی قدرت کے باوجود شہد کو اسباب کے ایک حددرجہ کا مل نظام کے تحت تیار کرتا ہے۔ تاکہ انسان کو سبق ہو۔ وہ جانے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس ڈھنگ پربنایا ہے اور کن قوانین و آداب کی پیروی کرکے خدا کی اس دنیا میں کوئی شخص کامیاب ہوسکتا ہے۔

شہد کی مکھی جس طرح عمل کرتی ہے اس کو ایک لفظ میں، منصوبہ بند عمل کہہ سکتے ہیں۔ یہی اصول انسان کے لیے بھی ہے۔ انسان بھی صرف اس وقت کوئی بامعنی کامیابی حاصل کرسکتا ہے جب کہ وہ منصوبہ بندعمل کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ منظم اور منصوبہ بند عمل ہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد یقینی طریقہ ہے، شہد کی مکھی کے لیے بھی اورانسان کے لیے بھی۔

امکان کبھی ختم نہیں ہوتا

مغر ب کی طرف پھیلی ہوئی پہاڑیوں کے اوپر سورج ڈوب رہا تھا۔ آفتابی گولے کا آدھا حصہ پہاڑ کی چوٹی کے نیچے جا چکا تھا اور آدھا حصہ اوپر دکھائی دیتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد پورا سورج ابھری ہوئی پہاڑیوں کے پیچھے ڈوب گیا۔

اب چاروں طر ف اندھیرا چھانے لگا۔ سورج دھیرے دھیرے اپنا اجالا سمیٹتا جارہا تھا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا ماحول گہری تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ مگر عین اس وقت جب کہ یہ عمل ہورہا تھا، آسمان پر دوسری طرف ایک اور روشنی ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ یہ بارھویں کا چاند تھاجو سورج کے چھپنے کے بعد اس کی مخالف سمت سے چمکنے لگا۔ اور کچھ دیر کے بعد پوری طرح روشن ہوگیا۔ سورج کی روشنی کے جانے پر زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک نئی روشنی نے ماحول پر قبضہ کرلیا۔

’’یہ قدرت کا اشارہ ہے‘‘ میں نے اپنے دل میں سوچا ’’کہ ایک امکان جب ختم ہوجاتا ہے تو اسی وقت دوسرے امکان کا آغاز ہوجاتا ہے۔ سورج غروب ہوا تو دنیا نے چاند سے اپنی بزم روشن کرلی۔

اسی طرح افراد اور قوموں کے لیے بھی ابھرنے کے امکانات کبھی ختم نہیںہوتے۔ زمانہ اگر ایک بار کسی کو گرادے تو خدا کی اس دنیا میں اس کے لیے مایوس ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ وہ نئے مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ اپنے ابھرنے کا سامان کرسکتا ہے ضرورت یہ ہے کہ آدمی دانش مندی کا ثبوت دے اور مسلسل جدوجہد سے کبھی نہ اکتائے۔

یہ دنیا خدانے عجیب امکانات کے ساتھ بنائی ہے یہاں مادہ فنا ہوتا ہے تو وہ توانائی بن جاتا ہے۔ تاریکی آتی ہے تو اس کے بطن سے ایک نئی روشنی برآمد ہوجاتی ہے۔ ایک مکان گرتا ہے تو وہ دوسرے مکان کی تعمیر کے لیے زمین خالی کردیتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کے واقعات کا ہے۔ یہاں ہر ناکامی کے اندر سے ایک نئی کامیابی کا امکان ابھر آتا ہے۔ دو قوموں کے مقابلہ میں ایک قوم آگے بڑھ جائے اور دوسری قوم پیچھے رہ جائے تو بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کے بعد ایک اور عمل شروع ہوتا ہے۔ بڑھی ہوئی قوم کے اندر عیش پرستی اور سہولت پسندی آجاتی ہے۔ دوسری طرف پچھڑی ہوئی قوم میں محنت اور جدوجہد کا نیا جذبہ جا گ اٹھتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کسی کے لیے پست ہمت یا مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ حالات خواہ بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں ، اس کے آس پاس آدمی کے لیے ایک نئی کامیابی کا امکان موجود ہوگا۔ آدمی کو چاہیے کہ اس نئے امکان کو جانے اوراس کو استعمال کرکے اپنی کھوئی بازی کو دوبارہ جیت لے۔

قدرت کا سبق

ایک شخص نے اپنا ایک تجربہ لکھا ہے کہ ایک ماہی گیر نے ایک بار مجھے بتایا کہ کیکڑے کی ٹوکری پر کسی کو ڈھکن لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کیکڑا ٹوکری کے کنارےسے نکلنا چاہتا ہے تو دوسرے وہاں پہنچتے ہیں اور اس کو پیچھے کی طرف کھینچ لیتے ہیں

other sourceWords of another person or source

A fisherman once told me that one doesn't need to cover for a crab basket. If one of the crabs starts climbing up the side of the basket, the others will reach up and pull it back down.

Charles Allen, in The Miracle of Love.

کیکڑے کی یہ فطرت یقیناً خدا نے بنائی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کیکڑے کا یہ طریقہ ایک خدائی طریقہ ہے۔ کیکڑے کی مثال سے خدا انسانوںکو بتارہا ہے کہ انہیں اپنی اجتماعی زندگی کو کس طرح چلانا چاہیے۔

اجتماعی زندگی میں اتحاد کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اتحاد قائم کرنے کی بہترین تدبیروہی ہے جو کیکڑے کی دنیا میںخدا نے قائم کررکھی ہے۔ کسی انسانی مجموعے کے افراد کو اتنا باشعور ہونا چاہیے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص ذہنی انحراف کا شکا ر ہو اور اپنے مجموعے سے جدا ہونا چاہے تو دوسرے لوگ اس کو پکڑ کر دوبارہ اندر کی طرف کھینچ لیں۔ ’’ٹوکری‘‘ کے افراد اپنے کسی شخص کو ٹوکری کے باہر نہ جانے دیں۔

اسلامی تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال حضرت سعد بن عبادہ انصاری کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلہ پر ان کے اندر انحراف پیداہوا۔ بیشتر صحابہ اس پر متفق تھے کہ قبیلہ قریش کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ مگر سعد بن عبادہ کے ذہن میں یہ آیا کہ خلیفہ انصار کا کوئی شخص ہو یا پھر دو خلیفہ بنائے جائیں، ایک مہاجرین میں سے اوردوسرا انصار میں سے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سعد بن عبادہ کے قبیلہ کے تمام لوگ اپنے سردار کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ انہوں نے سعد بن عبادہ کو کھینچ کر دوبارہ ’ٹوکری‘ میں ڈال لیا۔ اور ان کو اس سے باہر جانے نہیں دیا۔

سنبھل کر چلیے

چھوٹے جانوروں کو ندی پار کرنا ہو تو وہ پانی میں تیزی سے چل کر نکل جاتے ہیں۔ مگر ہاتھی جب کسی ندی کو پار کرتا ہے تو وہ تیزی سے چلنے کے بجائے ہر قد م پر رک رک کرچلتا ہے ، وہ ہر قدم نہایت احتیاط سے رکھتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے جانوروں کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ پانی کے نیچے کی مٹی نرم ہو یا سخت ، ان کا ہلکا پھلکا جسم بآسانی اس سے گزر جاتا ہے۔ مگر ہاتھی غیر معمولی طور پر بڑا جانور ہے۔ بھاری جسم کی وجہ سے اس کے لیے یہ خطرہ ہے کہ نیچے کی مٹی اگر نرم ہو اور ا س کا پائوں اس میں دھنس جائے تو اس کے لیے اس سے نکلنا سخت مشکل ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہاتھی جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ نیچے کی سطح مضبوط ہے وہ قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ ہر بار جب وہ قدم رکھتا ہے تو اس پر اپنا پورا بوجھ نہیں ڈالتا۔ وہ ہلکا قدم رکھ کر پہلے اس کی نرمی اور سختی کو آزماتا ہے۔ اور جب اندازہ کرلیتا ہے کہ زمین سخت ہے اسی وقت اس پر اپنا پورا بوجھ رکھ کر آگے بڑھتا ہے۔

یہ طریقہ ہاتھی کو کس نے سکھایا۔ جواب یہ ہے کہ خدا نے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھی کے اس طریق عمل کو خدائی تصدیق حاصل ہے۔ گویا زندگی کے لیے خدا کا بتایا ہوا سبق یہ ہے کہ جب راستہ میں کسی خطرہ کا اندیشہ ہوتو اس طرح نہ چلا جائے جس طرح بے خطرراستہ پر چلا جاتا ہے بلکہ ہر قدم سنبھل سنبھل کر رکھا جائے ، ’’زمین‘‘ کی قوت کا اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔

انسان کو خدا نے ہاتھی سے زیادہ عقل دی ہے۔ جہاں بارود کے ذخیرے ہوں وہاں آدمی دیاسلائی نہیں جلاتا۔ جس ٹرین میں پٹرول کے ڈبے لگے ہوں،اس کا ڈرائیور بےاحتیاطی کے ساتھ اس کی شنٹنگ نہیں کرتا۔ مگر اسی اصول کو اکثر لوگ سماجی زندگی میں بھول جاتے ہیں۔ ہر سماج میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں اور وہ طرح طرح کے حالات پیدا کیے رہتے ہیں۔ سماج میں کہیں ’’دلدل‘‘ ہوتا ہے اور کہیں ’پٹرول‘‘۔ کہیں ’’کانٹا‘‘ ہوتا ہے اور کہیں ’’گڑھا‘‘۔ عقل مند وہ ہے جو اس قسم کے سماجی مواقع سے بچ کر نکل جائے،نہ کہ اس سے الجھ کر اپنے راستہ کو کھوٹا کرے۔

جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو وہ راستہ کی ناخوش گواریوں سے کبھی نہیں الجھے گا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان سے الجھنا اپنے آپ کو اپنے مقصد سے دور کرلینا ہے۔ بامقصد آدمی کی توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے،نہ کہ دائیں بائیں کی طرف۔ وہ مستقل نتائج پر نظر رکھتا ہے،نہ کہ وقتی کارروائیوں پر۔ وہ حقیقت کی نسبت سے چیزوں کو دیکھتا ہے،نہ کہ ذاتی خواہشات کی نسبت سے۔

قدرت کی مثال

شکاریات کے ایک ماہر نے لکھا ہے (ٹائمس آف انڈیا 21 مئی 1984)کہ شیراکثر اس وقت مردم خوربن جاتے ہیں جب کہ وہ اتنے بوڑھے ہوجائیں کہ وحشی جانوروں کو نہ پکڑ سکیں۔ مگر دس میں سے 9 مردم خورشیروہ ہیںجن کو غلط شکاری زخمی کردیتے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The big cats turn into man-eaters often when they are too old to hunt and trap wild animals. But nine times out of ten, they do so because a poacher has wounded them.

شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے مردم خور نہیں۔ مگر وہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ ’’دشمن خور‘‘ ہے۔ شیر جس کو اپنا دشمن سمجھ لے اس کو وہ کسی حال میں نہیں بخشتا۔ عام حالات میں شیرکسی انسان کو دیکھتا ہے تو وہ کتراکر نکل جاتا ہے۔ لیکن ایسے شکاری جن کے پاس اچھے ہتھیار نہ ہوں اور اناڑی پن کے ساتھ شیرپر فائر کریں۔ وہ اکثر اس کو مار نہیں پاتے بلکہ زخمی کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ شیر ہیں جو مردم خوربن جاتے ہیں وہ ’’انسان‘‘ کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اورجب بھی انسانی صورت میں کسی شخص کو دیکھ لیتے ہیں تو اس کو ختم کیے بغیر نہیں رہتے۔

یہ زندگی کا ایک قانون ہے۔ وہ جس طرح شیر اور انسان کے لیے درست ہے اسی طرح وہ انسان اور انسان کے لیے بھی درست ہے۔ ایک انسان کا معاملہ ہو یا ایک قوم کا معاملہ،دونوں حالتوں میں دنیا کا اصول یہی ہے۔ جس دشمن کو آپ ہلاک نہیں کرسکتے اس کو زخمی بھی نہ کیجئے کیوں کہ زخمی دشمن آپ کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بڑادشمن ہوتا ہے۔

ایک شخص آپ کا دشمن ہو اور آپ کافی تیاری کے بغیر اس پر وار کریں تو یہ اپنی قبر خود اپنے ہاتھ سے کھودنا ہے۔ اس قسم کے اقدام کے پیچھے بے صبری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ جن لوگوںکے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ سوچ سمجھ کر منصوبہ بنائیں اور خاموش جدوجہد کے ذریعہ اپنے آپ کو مضبوط اقدام کے قابل بنائیں وہی وہ لوگ ہیںجو دشمن پر سطحی وار کرکے دشمن کو اور زیادہ اپنادشمن بنالیتے ہیں اور بعد کو شکایت اور احتجاج کا دفتر کھول دیتے ہیں۔ حالانکہ اس دنیا میں نہ جھوٹے اقدام کی کوئی قیمت ہے اور نہ جھوٹی شکایتوں کی۔

زندگی کی قوت

گھر کے آنگن میں ایک بیل اگی ہوئی تھی۔ مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی۔ آنگن کی صفائی کراتے ہوئے مالک مکان نے بیل کو کٹوادیا۔ دو ر تک کھو دکر اس کی جڑیں بھی نکلوادی گئیں اس کے بعد پورے صحن میں اینٹ بچھا کر اس کو سیمنٹ سے پختہ کردیا گیا۔

کچھ عرصہ بعد بیل کی سابق جگہ کے پاس ایک نیا واقعہ ہوا۔ پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے دھکا دے کر انہیں اٹھادیا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کارروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس قائم کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار اینٹیں ہٹائی گیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے۔ بیل کی کچھ جڑیں نیچے رہ گئی تھیں۔ وہ بڑھ کر اینٹ تک پہنچیں اور اب اوپر آنے کے لیے زور کررہی تھیں۔

’’یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو وہ آٹے کی طرح پس اٹھیں۔ ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹ کے فرش کو توڑکر اوپر آجائیں۔ ‘‘مالک مکان نے کہا ’’ میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا۔ اگر یہ بیل مجھ سے دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اس کو زندگی کا حق دوں گا‘‘۔ چنانچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنادی۔ ایک سال بعد ٹھیک اسی مقام پر تقریباً پندرہ فٹ اونچی بیل کھڑی ہوئی تھی جہاں اس کو ختم کرکے اس کے اوپر پختہ اینٹیں جوڑ دی گئی تھیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پہاڑ اپنی ساری وسعت اور عظمت کے باوجود یہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی پتھر کے ٹکڑے کو ادھر سے ادھر کھسکادے۔ مگر درخت کے ننھے پودے میں اتنا زور ہے کہ وہ پتھر کے فرش کو دھکیل کر باہر آجاتا ہے۔ یہ طاقت اس کے اندر کہاں سے آئی۔ اس کا سرچشمہ عالم فطرت کاوہ پراسرار مظہر ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے۔ زندگی اس کائنات کاحیرت انگیز واقعہ ہے۔ زندگی ایک ایسی طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس کو کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ اس کو پھیلنے اور بڑھنے کے حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا۔

زندگی ایک ایسی قوت ہے جو اس دنیا میں اپنا حق وصول کرکے رہتی ہے جب زندگی کی جڑیں تک کھوددی جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے اور موقع پاتے ہی دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کرلیتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ اس وقت بھی وہ عین اس مقام سے اپنا سرنکال لیتی ہے جہاں اسے توڑا اور مسلا گیا تھا۔

درخت

درخت کا ایک حصہ تنا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ اس کی جڑیں۔ کہا جاتا ہے کہ درخت کا جتنا حصہ اوپر ہوتا ہے تقریباً اتنا ہی حصہ زمین کے نیچے جڑ کی صورت میں پھیلاہوا ہوتا ہے۔ درخت اپنے وجود کے نصف حصہ کو سرسبز و شاداب حقیقت کے طورپر اس وقت کھڑا کرپاتا ہے جب کہ وہ اپنے وجود کے بقیہ نصف کو زمین کے نیچے دفن کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ درخت کا یہ نمونہ انسانی زندگی کے لیے خدا کا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تعمیر اور استحکام کے لیے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے۔ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Root Downward - Fruit Upward. That is the divine protocol. The rose comes to perfect combination of colour, line and aroma atop a tall stem. Its perfection is achieved, however, because first a root went down into the homely matrix of the common earth. Those who till the soil or garden understand the analogy. Our interests have so centred on gathering the fruit that it has been easy to forget the cultivation of the root. We cannot really prosper and have plenty without first rooting in a life of sharing. The horn of plenty does not stay full unless first there is rooting in sharing.

جڑنیچے کی طرف، پھل اوپر کی طرف۔ یہ خدائی اصول ہے۔ گلاب کا پھول رنگ اور خوشبو کا ایک معیاری مجموعہ ہے جو ایک تنا کے اوپر ظاہر ہوتا ہے۔ مگر اس کا معیار اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ پہلے ایک جڑ نیچے مٹی کے اندر گئی۔ وہ لوگ جو زمین میں کھیتی کرتے ہیں یا باغ لگاتے ہیں وہ اس اصول کو جانتے ہیں۔ مگر ہم کو پھل حاصل کرنے سے اتنی زیادہ دل چسپی ہے کہ ہم جڑ جمانے کی بات آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ ہم حقیقہً ترقی اور خوشحالی حاصل نہیں کرسکتے جب تک ہم مشترک زندگی میں اپنی جڑیں داخل نہ کریں۔ مکمل خوش حالی مشترک زندگی میں جڑیں قائم کیے بغیر ممکن نہیں۔

درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ مگر وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں جماتا ہے۔ وہ نیچے سے اوپر کی طرف بڑھتا ہے،نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف۔ درخت گویا قدرت کا معلم ہے جو انسان کو یہ سبق دے رہا ہے اس دنیامیں داخلی استحکام کے بغیر خارجی ترقی ممکن نہیں۔

پانے سے پہلے

انگریزی کا مقولہ ہے کہ ہم دیتے ہیں تب ہی ہم پاتے ہیں۔

In giving that we receive

دنیا کے بنانے والے نے دنیا کا یہ قانون مقرر کیا ہے کہ یہاں جودیتاہے وہی پاتا ہے جس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو اس کے لیے پانا بھی اس دنیا میں مقدر نہیں۔

ہمارے چاروں طرف کی دنیا میں خدا نے اس اصول کو انتہائی کامل شکل میں قائم کررکھا ہے یہاں ہر چیز کو اگرچہ اپنے وجود کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے کچھ لینا پڑتا ہے ، مگر ہر چیز کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا لیتی ہے اس سے زیادہ وہ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

درخت کو لیجئے۔ درخت زمین سے پانی اور معدنیات لیتا ہے۔ وہ ہوا سے كاربن ڈائي آكسايڈ لیتا ہے۔ وہ سورج سے حرارت لیتا ہے اور اس طرح پوری کائنات سے اپنی غذا لیتے ہوئے اپنے وجود کو کمال کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ مگراس کے بعد وہ کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کا پورا وجود دوسروں کے لیے وقف ہوجاتا ہے۔ وہ دوسروں کو سایہ دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو لکڑی دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو پھول اور پھل دیتا ہے۔ وہ ساری عمر اسی طرح اپنے آپ کو دوسروں کے لیے وقف رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ ختم ہوجاتا ہے۔

یہی حال کائنات کی ہر چیز کا ہے۔ ہر چیز دوسروں کو دینے اور دوسروں کو نفع پہنچانے میں مصروف ہے۔ سورج ، دریا، پہاڑ، ہوا ہر چیز دوسروں کونفع پہنچانے میں لگی ہوئی ہیں۔ کائنات کا دین نفع بخشی ہے،نہ کہ حقوق طلبی۔

اس دنیا میں صرف ایک ہی مخلوق ہے جو دینے کے بجائے لینا چاہتی ہے۔ اور وہ انسان ہے۔ انسان یک طرفہ طور پر دوسروں کو لوٹتا ہے، وہ دوسروں کو دیئے بغیر دوسروں سے لینا چاہتا ہے۔ وہ نفع بخش بنے بغیر نفع خور بننا چاہتا ہے۔

انسان کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ وہ کائنات کے عام مزاج سے ہٹی ہوئی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے موجودہ دنیامیں کامیابی مقدر نہیں۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کو مل سکتی ہے جو وسیع تر کائنات سے اپنے کو ہم آہنگ کریں۔ جو دینے والی دنیا میں خود بھی دینے والے بن کر رہیں، نہ کہ دینے والی دنیا میں صرف لینے والے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content