Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

ابتدائیہ

Urdu · 13 min read

دیباچہ

الفریڈایڈلر(1937۔ 1870)موجودہ زمانہ کا مشہور نفسیاتی عالم ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (Individual psychology)تھا۔ اس کے بارے میں ایک مبصر نے لکھا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

After spending a lifetime studying people and their hidden reserves of power, the great psychologist, Alfred Adler, declared that one of the wonder-filled characteristics of human beings is “their power to turn a minus into a plus”.

other sourceWords of another person or source

پوری عمر انسان کا اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، عظیم نفسیات دان الفریڈ ایڈلر نے اعلان کیا کہ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک’’ نہیں ‘‘کوایک ’’ہے‘‘ میں تبدیل کر سکے۔

other sourceWords of another person or source

اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتہائی غیرمعمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مذکورہ اقتباس ایک عالم نفسیات کی زبان سے اسی کا اعتراف ہے۔ اس صلاحیت کی آخری حد یہ ہے کہ انسان تاریکی میں بھی روشنی کا پہلو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جب اس کی بازی کھوئی گئی ہو اس وقت وہ دوبارہ اپنے لیے نیا میدان تلاش کر لیتا ہے جس میںجدوجہدکر کے وہ ازسرِنو اپنی منزل پر پہنچ جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زیر نظر کتاب انسانی شخصیت کے اسی پہلو کا مطالعہ ہے۔ یہ ناممکن میں ممکن کو دیکھنے کی کوشش ہے۔ یہ مایوسی کو امید میں بدلنے کا ایک پیغام ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کی آج کے انسان کو شاید ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے۔

وحید الدین

دہلی، 30مئی 1986

مقصدیت

با مقصد زندگی

ایکسپریس ٹرین پوری رفتار سے اپنی منزل کی طرف بھاگی چلی جارہی تھی۔ راستہ میں دونوں طرف سرسبز کھیتوں اور ڈبڈبائے ہوئے نالوں اور ندیوں کا مسلسل منظر اپنی طرف کھینچتاہے۔ مگر تیزدوڑتی ہوئی ٹرین کو ان خوش نما مناظر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ پستی اور بلندی،خشکی اور پانی اس کی رفتار میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتے۔ راستہ میں چھوٹے چھوٹے اسٹیشن آتے ہیں مگر وہ ان کو چھوڑتی ہوئی اس طرح بھاگی چلی جاتی ہے کہ گویا اسے کہیں ٹھہرنا نہیں ہے۔

بامقصد زندگی کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ جس آدمی نے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنا رکھا ہو۔ اس کی ساری توجہ اپنے مقصد پر لگ جاتی ہے ،ادھر ادھر کے مسائل میں وہ اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔

بامقصد زندگی گزارنے والا آدمی ایسے مسافر کی طرح ہوتا ہے جو اپنا ایک ایک لمحہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے میں لگا دینا چاہتا ہے۔ دنیا کے خوش نما مناظرایسے مسافر کولبھانے کےلیے سامنے آتے ہیں مگر وہ ان سے آنکھیں بند کر لیتا ہے سائے اور اقامت گاہیں اس کو ٹھہرنے اور آرام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں مگر وہ ان کو چھوڑتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری دوسری چیزوں کے تقاضے اس کا راستہ روکتے ہیں مگر وہ ہر ایک سے دامن بچاتا ہوا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز اس سے ٹکراتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کے عزم اور اس کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آتا۔

بامقصد آدمی کی زندگی ایک بھٹکے ہوئے آدمی کی مانند نہیں ہوتی جو سمت سفر متعین نہ ہونے کی وجہ سے کبھی ایک طرف چلنے لگتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔ بلکہ اس کے ذہن میں راستہ اور منزل کا واضح شعور ہوتا ہے اس کے سامنے ایک متعین نشانہ ہوتا ہے۔ ایسا آدمی کیسے کہیں رک سکتا ہے۔ کیسے وہ دوسری چیزوں میں الجھ کر اپنا وقت ضائع کرنے کو پسند کرسکتا ہے۔ اس کو تو ہر طرف سے اپنی توجہ ہٹا کر ایک متعین رخ بڑھنا ہے او ربڑھتے رہنا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقصد کو پالے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔

زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سوچا ہوا نشانہ ہو۔ جس کی صداقت پراس کا ذہن مطمئن ہو جس کے سلسلے میں اس کا ضمیر پوری طرح اس کا ساتھ دے رہا ہو ، جو اس کی رگ و پے میں خون کی طرح اترا ہوا ہو۔ یہی مقصد ی نشانہ کسی انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اگریہ نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اور جس آدمی کے اندر مقصدیت آجائے اس کی زندگی لازماً ایک اور زندگی بن جائے گی۔ وہ چھوٹی چھوٹی غیرمتعلق باتوں میں الجھنے کی بجائے اپنی منزل پر نظر رکھے گا۔ وہ یک سوئی کے ساتھ اپنے مقررہ نشانہ پر چلتا رہے گا یہاں تک کہ منزل پر پہنچ جائے گا۔

رواجی ذہن

الیس ہووے (Elias Howe) امریکا کے مشہور شہر مساچوچسٹ کا ایک معمولی کا ریگر تھا۔ وہ 1819 میں پیدا ہو ااور صرف 48 سال کی عمر میں 1867 میں اس کا انتقال ہوگیا۔ مگر اس نے دنیا کو ایک ایسی چیز دی جس نے کپڑے کی تیاری میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔ یہ سلائی کی مشین تھی جو اس نے 1845 میں ایجاد کی۔

الیس ہووے نے جومشین بنائی اس کی سوئی میں دھاگہ ڈالنے کے لیے ابتداء ً سوئی کی جڑ کی طرف چھید ہوتا تھا جیسا کہ عا م طو ر پر ہاتھ کی سوئیوں میں ہوتا ہے۔ ہزاروں برس سے انسان سوئی کی جڑ میں چھیدکرتا آرہا تھا۔ اس لیے الیس ہووے نے جب سلائی مشین تیارکی تو اس میں بھی عام رواج کے مطابق اس نے جڑ کی طرف چھید بنایا۔ اس کی وجہ سے اس کی مشین ٹھیک کام نہیں کرتی۔ شروع میں وہ اپنی مشین سے صرف جوتا سی سکتا تھا۔ کپڑے کی سلائی اس مشین پر ممکن نہ تھی۔

الیس ہووے ایک عرصہ تک اسی ادھیڑ پن میں رہا مگر اس کی سمجھ میں اس کا کوئی حل نہ آتا تھا۔ آخرکار اس نے ایک خواب دیکھااس خواب نے اس کا مسئلہ حل کردیا۔

اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی وحشی قبیلہ کے آدمیوں نے اس کو پکڑلیا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ وہ 24 گھنٹہ کے اندر سلائی کی مشین بنا کرتیار کرے۔ ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اس نے کوشش کی مگر مقررہ مدت میں وہ مشین تیار نہ کرسکا۔ جب وقت پورا ہوگیا تو قبیلہ کے لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھ میں برچھا تھا— ہووے نے غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر ایک سوراخ تھا یہی دیکھتے ہوئےاس کی نیند کھل گئی۔

ہووے کو آغاز مل گیا۔ اس نے برچھے کی طرح اپنی سوئی میں بھی نوک کی طرف چھید بنایا اور اس میں دھاگا ڈالا۔ اب مسئلہ حل تھا۔ دھاگے کا چھیدا وپر ہونے کی وجہ سے جو مشین کام نہیں کررہی تھی وہ نیچے کی طرف چھید بنانے کے بعد بخوبی کام کرنے لگی۔

ہووے کی مشکل یہ تھی کہ وہ رواجی ذہن سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جو چیز ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے، وہ صحیح ہے۔ جب اس کے لاشعور نے اس کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا اس وقت وہ معاملہ کو سمجھا اور فوراً حل کرلیا۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہمہ تن کسی کام میں لگا دے۔ تو وہ اسی طرح اس کے رازوں کو پالیتا ہے جس طرح مذکورہ شخص نے پالیا۔

مقصدیت

جاپان نے 1931 میں چین کے شمال مشرقی حصہ (منچوریا) پر قبضہ کرلیا۔ او روہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کردی۔ اس کے بعد چین اور جاپان کے تعلقات خرا ب ہوگئے۔ 7 جولائی 1937 کو بیجنگ (پیکنگ)کے پاس مارکوپولو برج کاواقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ نے دبے ہوئے جذبات کو بھڑکا دیا۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان فوجی ٹکرائو شروع ہوگیا جو بالآخر دوسری جنگ عظیم تک جا پہنچا۔

اس وقت سے چین اور جاپان کے درمیان نفر ت اور کشیدگی پائی جاتی تھی۔ چند سال پہلے جاپان اور چین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے مطابق جاپان کو چین میں ایک اسٹیل مل قائم کرنا تھا مگر معاہدہ کی تکمیل کے بعد چینی حکومت نے اچانک اس کو منسوخ کردیا۔

چین کے نئے وزیر اعظم ڈینگ زاپنگ(Deng Xiaoping)نے حال میں اشتراکی انتہاپسندی کو ختم کیا اور کھلے دروازے(Open Door)کی پالیسی اختیار کی تو جاپان کے لیے دوبارہ موقع مل گیا۔ چنانچہ آج کل جاپان نے چین میں زبردست یورش کررکھی ہے۔ آپ اگر جاپان سے چین جانا چاہیں تو آپ کو ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ تین ماہ پیشگی بک کرانی ہوگی۔ جاپان سے چین جانے والے ہر جہاز کی ایک ایک سیٹ بھری ہوئی ہوتی ہے۔

چین میںتجارت کے زبردست امکانات ہیں۔ جاپان چاہتا ہے کہ ان تجارتی امکانات کو بھرپور استعمال کرے۔ اس مقصد کے لیے جاپان نےیک لخت طو رپرماضی کی تلخ یادوں کو بھلا دیا۔ ایک سیاح کے الفاظ میں جاپان نے طے کرلیا کہ وہ چین کی طرف سے پیش آنے والی ہر ایذارسانی (Pinpricks) کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ سیاح نے لکھا ہے کہ میرے قیام ٹوکیو (جون 1985) کے زمانہ میں ریڈیو بیجنگ نے اعلان کیا کہ چین ایک میوزیم بنائے گا جس میں تصویروں کے ذریعہ دکھایا جائے گا کہ جاپانیوں نے چینیوں کے اوپر ماضی میں کیا کیا مظالم کیے ہیں۔ اس میوزیم کا افتتاح 1987 میں ہوگا جب کہ مارکوپولو کے حادثہ کو 50 سال پورے ہوجائیں گے۔ جاپانیوں سے اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ جب زیادہ زور دیا گیا تو انہوں نے جواب دیا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

You know, our Chinese friends have a way of twisting our tails, and appealing to our conscience.

آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے چینی دوستوں کا مہمیز لگانے کاطریقہ ہے۔ وہ ہمارے ضمیر کو متوجہ کررہے ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا 13 جون 1985)

other sourceWords of another person or source

جاپان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ یعنی اپنی تجارت کو فروغ دینا۔ اس مقصد نے جاپان کے اندر کردار پیدا کیا۔ اس کے مقصد نے اس کو حکمت، برداشت، اعراض کرنا اور صرف بقدر ضرورت بولنا سکھایا۔ اس کے مقصد نے اس کو بتایا کہ کس طرح وہ ماضی کو بھلا دے اور تمام جھگڑوں اور شکایتوں کو یک طرفہ طور پر دفن کردے تاکہ اس کے لیے مقصد تک پہنچنے کی راہ ہموارہو سکے۔

بامقصد گروہ کی نفسیات ہمیشہ یہی ہوتی ہے۔ خواہ اس کے سامنے تجارتی مقصد ہویاکوئی دوسرا مقصد۔ اور جب کوئی گروہ یہ صفات کھودے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس گروہ نے مقصدیت کھودی ہے۔ اس کے سامنے چوں کہ کوئی مقصدنہیں اس لیے اس کے افراد کا کوئی کردار بھی نہیں۔

موجودہ زمانہ میں ہماری قوم کی سب سے بڑی کمزوری اس کی بے کرداری ہے۔ جس میدان میں بھی تجربہ کیجئے۔ آپ فوراً دیکھیں گے کہ لوگوں نے اپنا کردار کھودیاہے۔ ان کے اوپر کسی ٹھوس منصوبہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ جہاں بھی انہیں استعمال کیا جائے وہ دیوار کی کچی اینٹ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ دیوار کی پختہ اینٹ ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔

اس کمزوری کی اصل وجہ یہی ہے کہ آج ہماری ساری قوم نے مقصد کا شعور کھودیا ہے۔ وہ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔ اگر لوگوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کردیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے۔ وہ دوبارہ ایک باکردار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک باکردار گروہ بنے ہوئے تھے۔

قوم کے افراد کے اندر مقصد کا شعور پید ا کرنا ان کے اندر سب کچھ پیدا کرنا ہے۔ مقصد آدمی کی چھپی ہوئی قوتوں کو جگادیتا ہے، وہ اس کو نیا انسان بنا دیتا ہے۔

سارا خون

پروفسیر پال ڈیراک 1902(Paul Dirac)ءمیں پیدا ہوئے۔ اکتوبر 1984 میں انہوں نے 82 سال کی عمر میں فلوریڈا میں وفات پائی۔ وہ جدید دور میں نیوٹن اور آئن سٹائن کے بعد سب سے زیادہ ممتاز سائنسدان سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو نوبل انعام اور دوسرے بہت سے اعزازات حاصل ہوئے۔

پال ڈیراک کے نام کے ساتھ کوانٹم میکانیکل تھیوری منسوب ہے۔ یہ سائنسی نظریہ ایٹم کے انتہائی چھوٹے ذرات سے بحث کرتا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اینٹی میٹر کی پیشین گوئی کی جو بعد کو مزید تحقیقات سے ثابت ہوگیا۔ چنانچہ گارڈین (4 نومبر 1984) نے پال ڈیراک پر مضمون شائع کرتے ہوئے اس کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Prophet of the Anti-Universe

پال ڈیراک نے ایٹم میں پہلا اینٹی پارٹیکل دریافت کیا جس کو پازیٹران (Positron) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے نیوکلیر فزکس میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔ لوگ جب پال ڈیراک سے پوچھتے کہ آپ نےتحت ایٹم مادہ کی نوعیت کے بارے میں اپنا چونکا دینے والا نظریہ کیسے دریافت کیاتو وہ بتاتے کہ وہ اپنے مطالعہ کے کمرہ میں اس طرح فرش پر لیٹ جاتے تھے کہ ان کا پائوں اوپر رہتا تاکہ خون ان کے دماغ کی طرف دوڑے

When people asked him how he got his startling ideas about the nature of sub-atomic matter, he would patiently explain that he did so lying on his study floor with his feet up so that the blood ran to his head.

بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑافکری کام وہی شخص کرپاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔

بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر یکسو نہیں کرتے اس لیے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ہر کام آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔ وہ شخص بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔

خواب میں

مسٹر رام رتن کپلاریفریجریٹر اور ائیر کنڈیشنر کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی فرم کا نام کیپسنس ہے نئی دہلی میں آصف علی روڈ پر اس کا صدردفتر ہے۔

مسٹر رام رتن کپلاكو اپنے فرم کے لیے ایک سلوگن کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اخبارمیں اعلان کیا کہ جو شخص کم لفظوں میں ایک اچھا سلوگن بنا کر دے گا اس کو معقول انعام دیا جائے گا۔ بار بار کے اعلان کے باوجود کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اچھا سلوگن دے سکے۔ بعض لوگوں نے کچھ فقرے لکھ کر بھیجے مگر مسٹرکپلا کو وہ پسند نہ آئے۔ ’’سلوگن کو Penetrating ہونا چاہیے۔ مگر یہ سلوگن Penetrating نہ تھے‘‘ انہوں نے 4 دسمبر 1983 کی ایک ملاقات میں کہا۔

مسٹرکپلا اسی ادھیڑبن میں رات دن لگے رہے وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچتے رہے۔ ان کا دماغ برابر سلوگن کی تلاش میں لگا ہوا تھا مگر کامیابی نہیں ہورہی تھی۔

اسی فکر میں تقریباً چھ سال گزرگئے۔ اس کے بعد ایسا ہو اکہ مسٹرکپلا نے ایک روز رات کو ایک خواب دیکھا۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک باغ میں ہیں۔ نہایت سہانا موسم ہے۔ طرح طرح کی چڑیاں درختوں پر چہچہارہی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوگئے۔ ان کی زبان سے نکلا

’’وید ر(Weather) ہو تو ایسا‘‘

یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھ کھل گئی۔ اچانک انہیں معلوم ہوا کہ انہوںنے وہ سلوگن دریافت کرلیا ہے جس کی تلاش میں وہ برسوں سے سرگرداں تھے۔ فوراً ان کے ذہن میں یہ انگریزی جملہ مرتب ہوگیا

KAPSONS: The Weather Masters

خواب انسانی دماغ کی وہ سرگرمی ہے جس کو وہ نیند کی حالت میں جاری رکھتا ہے۔ اگر آپ اپنے ذہن کو سارے دن کسی چیز میں مشغول رکھیں تو رات کے وقت وہی چیز خواب میں آپ کے سامنے آئے گی۔ تاریخ کی بہت سی ایجادات خواب کے ذریعہ ظہورمیں آئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موجد اپنی ایجاد میں اتنا مشغول ہوا کہ وہ سوتے میں بھی اسی کا خواب دیکھنے لگا۔ خواب دراصل کسی چیز میں کامل ذہنی وابستگی کا نتیجہ ہے۔ ایسے آدمی کے عمل کی مدت 12گھنٹے کے بجائے 24 گھنٹے ہوجاتی ہے۔ یہی کسی مقصد میں کامیاب ہونے کا راز ہے۔ اس قسم کی گہری وابستگی کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ نہ دنیا کا اور نہ آخرت کا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content